Tuesday, 27 June, 2006, 09:56 GMT 14:56 PST
حسن مجتبی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سان ڈیاگو، کیلیفورنیا
انسانی حقوق کی تنظیم ایشین ہیومن رائیٹس کمیشن نے پاکستان میں ریاستی تشدد پر جاری کی جانیوالی اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اگرچہ پاکستان میں قانونی طور پر تشدد منع ہے لیکن حقیقت میں وہاں شہریوں پر ریاستی تشدد کے طریقوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔
یہ رپورٹ اقوم متحدہ کی طرف سے تشدد کے خلاف منائے جانیوالے دن چھبیس جون کی نسبت سے جاری کی گئی ہے۔اس رپورٹ کی ایک کاپی بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بھی بھیجی گئی ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق کراچی اور کوئٹہ میں تشدد کے یہ مراکز کور کمانڈروں کے دفاتر کے کنٹرول میں کام کررہے ہیں جہاں صرف خفیہ ایجیینسیوں، ملٹری انٹیلیجنس اور آئی ایس آئی یا انٹر سروسز انٹیلیجنس کے لوگوں کو جانے کی اجازت ہے اور وہاں جانے کے لیئے پولیس اہلکاروں کی آنکھوں پر بھی پٹی باندھی جاتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جس دن پاکستان اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کا رکن بنا اسی دن کراچی سے شیعہ فرقے سے تعلق رکھنے والے بیس افراد کو گرفتار کیا گیا جو تا حال گمشدہ ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے ان بیس افراد کے لیئے بتایا جاتا ہے کہ ان پر فوجی چھاؤنی کے حوالات میں زبردست تشدد کیا جارہا ہے-
رپورٹ میں سندھی قومپرست تنظیم جيۓ سندھ قومی محاذ کے مئی میں گرفتار ہونیوالے رہنماؤں آکاش ملاح اور مانجھی خان چانڈیو کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ان کو گرفتار کر کے حیدرآباد کی فوجی چھاؤنی میں رکھا گیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بلوچستان سے دس طالبعلموں اور تیرہ سیاسی کارکنوں کو گرفتار کر کے بلوچـستان کی سرحد پر صوبہ پنجاب کے ڈیرہ غازی خان میں فوجی تحویل میں تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے او ر ان افراد کو اب تک لاپتہ بتا گیا ہے اور عدالتوں کے لیئے بھی ان کو انصاف فراہم کرنے کے لیئے بھی بہت تھوڑے سے راستے کھلے ہوئے ہیں-
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایسی ہی صورتحال صوبہ سرحد میں موجود ہے جہاں جنوبی وزیرستان سے ’دہشتگردی کے خلاف جنگ‘ کے نام پر تریسٹھ لوگوں کو گرفتار کرکے فوجی کیمپوں میں تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
رپورٹ کی ابتدا میں صحافی حیات اللہ کا حوالہ دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق صحافی حیات اللہ کو پانچ دسمبر دو ہزار پانچ میں گرفتار کیا گیا تھا اور جنوبی وزیرستان میں ایک فوجی کیمپ میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ حیات اللہ پندرہ جون کومردہ پائے گئے۔ حیات اللہ کی ہلاکت کے وقت ہتھکڑی لگی ہوئی تھی۔
رپورٹ نے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے حوالے سے بتایا ہے کہ اگرچہ سال دو ہزار دو میں پولیس آرڈر کے تحت تشدد پر پابندی عائد کی گئی تھی لیکن سال دو ہزار میں ریاستی تشدد کے گیارہ ہزار کیس رپورٹ ہوئے-
ہیومن رائٹس کیمشن آف پاکستان کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں ریاستی تشدد کا شکار ہونیوالوں میں عورتوں اور بچوں کا چھ فیصد ہے-
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر چہ صفیہ کے کیس کی تحقیقات کے لیئے انکوائری قائم کی گئی تھی لیکن اس کی رپورٹ آج تک منظر عام پر نہیں آئی ہے۔
رپورٹ میں کراچي سینٹرل جیل میں قید حسن گچکی جو بلوچ رہنما عطاءاللہ مینگل کے داماد تھے کی موت کا ذکر بھی کیا گیا ہے جنہیں مبینہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا اور جنہوں نے ہسپتال کے راستے دم توڑ دیا تھا-
سندھ ہائيکورٹ نے ایک تحقیقات کے بعد جیل حکام کے خلاف حسن گچکی کے مبینہ قتل کا کیس داخل کرنے کا حکم جاری کیا تھا تاہم اس سلسلے میں اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آ سکی-
رپورٹ میں سندھ میں صفدر سرکی سمیت گمشدہ سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کے لیئے بتایا گیا ہے کہ انہیں مبینہ طور پر فوجی ایجینیسوں کی تحویل میں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
امداد بلوچ نے بتایا کہ مہینوں تک ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر انہیں سخت تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ان کے جسم کو جلتی سگریٹوں سے داغا گیا-
رپورٹ میں اسی قسم کے بہیمانہ تشدد کی گواہی رہائی پانے والے سندھی قوم پرست کارکنوں مظہر بھٹی، عمران لغاری، غلام نبی سہارن، فیاض جانوری اور فیض چانڈیو کے حوالے سے بھی بتائي گئي ہے۔
رپورٹ میں پولیس اور فوجی ایجنیسوں کے ہاتھوں ہونیوالے تشدد کے طریقوں کو بھی ظاہر کیا گیا ہے جس میں قید شخص کے کپڑے اتروا کر گھنٹوں تک اس سے ننگا ناچ کروانا، گھنٹوں پانی میں غوطے کھلوانا، الٹا لٹکا کر ڈنڈ نکلوانا، سگرٹوں سے جسم داغنا، برف کی سلوں پر سلانا، اور بیت الخلاء کو جانے کی اجازت نہ دینا، مہینوں آنکھوں پر پٹی باندہ کر رکھنا شامل ہیں۔
رپورٹ میں مرتب کی جانیوالی سفارشات میں سے سپریم کورٹ کی جانب سے پاکستان میں ریاستی تشدد کے خلاف تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے اور تمام گم شدگان کی فہرست عوامی سطح پر شائع کرنے کے کا مطالبہ بھی شامل ہے-