Tuesday, 27 June, 2006, 13:48 GMT 18:48 PST
حماس ایک ایسی دستاویز پر متفق ہوگئی ہے جس کے تحت اس نے اسرائیل کو غیر اعلانیہ طور پر تسلیم کر لیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق اسرائیلی جیلوں میں مقید فلسطینی رہنماؤں کی طرف سے تیار کیے منصوبے کے مطابق اسرائیل اور فلسطین ساتھ ساتھ رہ سکیں گے۔ حماس نے اس منصوبے کو مان لیا ہے۔
حماس کے ترجمان سمیع ابو ذوہیری نے کہا ہے کہ منصوبے کی تمام نکات پر اتفاق رائے پیدا ہو چکا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ حماس کی طرف ’فلسطین اسرائیل منصوبہ‘ کو ماننے کا باضابطہ اعلان منگل کی شام کو کیا جائے گا۔
حماس کے موجودہ چارٹر کے مطابق اسرائیل کو طاقت کے ذریعے صفحہ ہستی سے مٹا دیا جانا چاہیے۔
ان دنوں فلسطینی مزاحمت کارروں کی جانب سے اسرائیلی فوجی کے اغوا کے بعد فلسطین اور اسرائیل میں سخت کشیدگی پائی جاتی ہے۔
فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے مقید فلسطینی قیادت کی طرف سے تیار کیے منصوبے پر جولائی میں ریفرنڈم کرانے کا اعلان کر رکھا ہے۔ حماس نے ریفرنڈم کے اعلان کے وقت اس منصوبے کی مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ وہ عوام سے اپیل کریں گے کہ لوگ اس ریفرنڈم میں حصہ نہ لیں۔