Monday, 26 June, 2006, 14:26 GMT 19:26 PST
اقوام متحدہ کے ایک نگران ادارے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ کہ افغانستان میں پوست کی کاشت اس سال پھر بڑھنے کا خدشہ ہے جس کی بنیادی وجہ یورپ میں چرس کی بڑھتی ہوئی مانگ ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں منشیات کی پیداوار ختم کرنے کے رستے میں سب سے بڑی رکاوٹ لاقانونیت ہے۔
اقوام متحدہ کے منشیات اور جرائم سے متعلق ادارے کے مطابق طالبان مزاحمت کاروں کی کارروائیوں کے باعث منشیات کے کاروبار میں ملوث گینگ موقع کا فائدہ اٹھا کر صورتحال کا استحصال کر رہے ہیں۔
تاہم رپورٹ میں یہ نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ پوست کی کاشت 2001 میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد پہلی مرتبہ گزشتہ برس کم ہوئی تھی۔ ادارے کا کہنا ہے کہ اب پوست کی کاشت ختم کرنے کے سلسلے میں حکومتی سطح پر بھی کوششیں کی جارہی ہیں اور کاشتکاروں کو پوست نہ کاشت کرنے پر مراعات بھی دی جارہی ہیں۔
ادارے کے سربراہ اینٹونیو ماری کوسٹا کا کہنا ہے کہ منشیات کے خلاف دنیا بھر میں کی جانے والی موثر کوششوں کے سبب اس کا استعمال واضح طور پر کم ہوا ہے۔ ’اگر ایسا نہ ہوا ہوتا تو آج یہ ایک گھمبیر عالمی مسئلہ بن چکا ہوتا‘۔
ان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں منشیات کے کاروبار کی صورتحال غربت اور سکیورٹی کے مسائل کے باعث با آسانی قابو سے باہر ہونے کی اہلیت رکھتی ہے۔واشنگٹن میں بی بی سی کی نامہ سارہ مورس کاکہنا ہے کہ رپورٹ میں عالمی سطح پر منشیات کا کاروبار کم کرنے کی راہ میں دو مشکلات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ایک تو یورپ میں چرس کی بڑھتی مانگ اور دوسرے دنیا بھر میں چرس کی مانگ میں اضافہ۔
رپورٹ کے مطابق یورپ کا بڑا پڑھا لکھا اور کھاتا پیتا طبقہ اس نشے میں مبتلا ہے تاہم وہ یہ تسلیم نہیں کرتے کہ وہ منشیات کے عادی ہیں۔ دوسرے شوبز اور دیگر شعبوں کی معروف شخصیات بھی نشہ کرتی ہیں جس سے بچوں پر منفی اثر پڑتا ہے۔