Sunday, 25 June, 2006, 16:27 GMT 21:27 PST
عبدالحئی کاکڑ
پشاور
ملا عمر سے منسوب ایک آڈیو پیغام میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کا مسئلہ ملک ميں بیرونی طاقتوں کی موجودگي میں حل نہیں ہو گا
طالبان کے سربراہ ملا عمر کے نام سے جاری ایک آڈیو پیغام میں کہا ہے کہ افغانستان کا مسئلہ ملک ميں بیرونی طاقتوں کی موجودگي اور ان کے نظریات کو تھوپنے سےحل نہیں ہوگا۔
پیغام میں انہوں نے افغان حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر دباو ڈالا گیا تو طالبان حکومتی نظام کو تہنس نہس کردیں گے۔
خود کو طالبان کے ترجمان کہنے والے ڈاکٹر حنیف نے انکار کیا ہے کہ آڈیو ٹیپ ملا عمر کی ہے جبکہ طالبان سربراہ کے قریبی ذرائع نے بی بی سی کو ٹیپ میں ریکارڈ شدہ آواز ملا عمر کی ہی قرار دی ہے۔
میڈیا کو ای میل کے ذریعے جاری کردہ آڈیو ٹیپ میں ملا عمر نے مسئلہ افغانستان اور اپنی عسکری کارروائیوں پر بات کی ہے۔
ایک منٹ اٹھائیس سکینڈ پر مشتمل تقریر پشتو میں کی گئی ہے۔پیغام میں افغان صدر حامد کرزئی کا نام لیئے بغیر انہیں مخاطب کر تے ہوئے کہا ہے کہ دارالحکومت کابل کا طالبان کے ہاتھ سے نکل جانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ کمزور ہوگۓ ہیں۔
ملا عمر سے منسوب اس پیغام میں کہا گیا ہے کہ پہاڑوں پر ان کا کنٹرول ہے۔اگر ہم پر دباو ڈالا گی
آڈیو ٹیپ میں حامد کرزئی کو یاد دلایا ہے کہ بیرونی عسکری قوت سے وہ دیر تک حکومت نہیں چلا سکتے۔
آڈیو ٹیپ میں بولنے کے انداز سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ کسی مجمع سے تقریر کی ہے۔ایک سال قبل بھی ملا عمر سے منسوب ٹیپ میڈیا کو جاری ہوئی تھی جس میں انہوں نے افغانستان میں اتحادی افواج کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔
ملا عمر سے منسوب ٹیپ ایسے وقت میں میڈیا کے سامنے آیا ہے جب افغانستان کے جنوبی علاقوں میں اتحادی افواج نے طالبان کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں اور گزشتہ ایک مہینے کے دوران سینکڑوں طالبان مارے جاچکے ہیں۔