Sunday, 25 June, 2006, 04:56 GMT 09:56 PST
اتوار کی صبح غزہ کی پٹی میں ایک اسرائیلی فوجی چوکی پر حملہ کے نتیجے میں چار افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔
اسرائیل کے مطابق یہ حملہ کریم شالوم کراسنگ کے نزدیک کیا گیا۔ اطلاعات ہیں کہ عسکریت پسندوں نے راکٹ سے داغے جانے والے بموں اور بندوقوں سے حملہ کرکے دو اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک کردیا جس کے بعد فوجیوں نے فائرنگ کرکے دو فلسطینیوں کو ہلاک کردیا۔ اسرائیلی ترجمان کےمطابق دو اسرائیلی فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں۔
حملے کے چند گھنٹوں کے بعد گن شپ ہیلی کاپٹرز سمیت درجنوں اسرائیلی ٹینک غزہ میں گھس گئے۔
غزہ کی پاپولر ریزیسٹنس کمیٹی کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ یہ حملہ ان کے رہنما کی گزشتہ ماہ اسرائیلی حملے میں ہلاکت کے بدلے کے طور پر کیا گیا ہے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ حملہ حماس کے ملٹری ونگ کے ساتھ مل کر کیا گیا ہے۔
فلسطینی شدت پسند گروہ حماس کے مسلح بازو کا کہنا ہے کہ اس کے حامیوں نے آتشگیر مادے اور بموں سے حملہ کیا ہے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق حملہ اینٹی ٹینک میزائیل سے کیا گیا جس کے بعد فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوگیا۔
غزہ میں بی بی سی کے نامہ نگار ایلن جونسٹن کا کہنا ہے کہ گزشتہ موسم گرما میں علاقے سے اسرائیلی فوج کے انخلاء کے کے بعد یہ اپنی نوعیت کا سب سے بڑا آپریشن ہے۔
یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یہ کارروائی حال ہی میں غزہ کے ساحل پر فلسطینی خاندان کی ہلاکت کا جواب ہے۔
حماس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک اسرائیلی ٹینک بھی تباہ کیا ہے تاہم اسرائیل نے اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔
نامہ نگار نے کہا ہے کہ اب فلسطینی ہمیشہ کی طرح اسرائیل کی انتقامی کارروائی کے خوف میں رہیں گے۔
یاد رہے کہ یہ حملہ اس وقت کیا گیا ہے جب فلسطینی صدر محمود عباس اور حکمراں شدت پسند تنظیم حماس کے وزیراعظم اسماعیل ہانیہ طاقت کی کشمکش ختم کرنے کے لیئے غزہ میں مذاکرات کرنے والے ہیں۔
خیال ہے کہ دونوں فریق کسی معاہدے کے بعد متحدہ محاذ بنا لیں گے۔