http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 25 June, 2006, 07:11 GMT 12:11 PST

عراقی یکجہتی کا نیا منصوبہ

عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے اتوار کے روز ملک سے فرقہ واریت اور تشدد کو ختم کرنے کی غرض سے قومی یکجہتی کا چوبیس نکات پر مشتمل ایک منصوبہ پیش کیا ہے۔

منصوبے میں کچھ سنی باغی گروپوں کو مذاکرات کی پیشکش اور سابق صدر صدام حسین کی بعث پارٹی کے ارکان کی حیثیت پر نظر ثانی کرنا بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ مسلح افواج کا بھی از سر نو جائزہ لیا جائے گا اور امکان ہے کہ افواج کو حکومت کے تابع کیا جائے گا۔

خدشات ہیں کہ کچھ سنی مزاحمتی گروپ وزیر اعظم کے اس منصوبے کو تسلیم نہیں کریں گے۔

کئی ماہ کی لے دے کے بعد مئی میں اپنا عہدہ سنبھالنے والے نوری المالکی، جو کہ خود شیعہ ہیں، ابھی تک متشدد ترین گروہوں سے بات چیت کرنے یا انہیں کسی قسم کی رعایت دینے کے مخالف رہے ہیں۔ اسی لیے نئے منصوبے میں القاعدہ، صدام حسین کے حماتیوں اور عراق شہریوں کو نشانہ بنانے والے مزاحمتی گروہوں کے لیے کوئی رعایت شامل نہیں ہے۔

تاہم کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اپنے منصوبے کو کامیاب بنانے کے لیے نوری المالکی کو زیادہ سے زیادہ گروہوں سے بات چیت کرنی چاہیے۔ اس سلسلے میں ایک سنی رکن اسمبلی سلیم عبداللہ نے کہا کہ ’ یہ منصوبہ تمام قومی طاقتوں کو شامل کرنے کا ایک اچھا موقع ہے۔‘

مـجوزہ منصوبے کے دیگر مقاصد میں عراق کی اپنی مسلح افواج اور سکیورٹی کے اداروں کی تشکیل کے نظام الاوقات کا تعین کرنا بھی شامل ہے۔ منصوبے کے اس پہلو پر کاربند رہ کر وزیراعظم مالکی عراق سے اتحادی فوجوں کی جزوی یا مکمل واپسی پر زور دینے کی بہتر پوزیشن میں ہوں گے۔ واضح رہے کہ جب گزشتہ ماہ انہوں نے عہدہ سنبھالا تھا تو وزیراعظم مالکی نے ملک کی سکیورٹی کے معاملات اٹھارہ ماہ میں اتحادی فوج سے واپس لینے کا وعدہ کیا تھا۔

ادھر امریکہ سے موصول ہونے والی اطلاعات سے لگتا ہے کہ فوجی حکام اگلے ایک سال میں عراق میں موجود امریکی فوجیوں کی تعداد نصف کر دینے کا منصوبہ رکھتے ہیں تاہم ابھی تک اس سلسے میں کوئی آخری فیصلہ نہیں ہوا ہے۔
نوری المالکی کے منصوبے کو صدر جلال طالبانی کی حمایت حاصل ہے

نوری المالکی کے اتحادی ارکان اسمبلی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کا قومی یکجہتی کا منصوبہ عراق میں حالات کی بہتری کا ایک حقیقی موقع فراہم کرتا ہے۔ عراقی صدر جلال طالبانی پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ جو مزاحمتی گروہ ابھی تک حکومت کے ساتھ بات چیت میں سے باہر ہیں، انہیں مذاکرات میں شامل کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ وہ ہتھیار پھینک دیں اور خود کو پرتشدد کارروائیوں سے دور کریں۔

نوری المالکی کے نئے امن منصوبے کی اہم تجاویز میں بظاہر بعث پارٹی کے ان ارکان کے لیے رعایات شامل ہیں جنہیں عراق پر حملے کے بعد سے سرکاری عہدوں سے الگ کر دیا گیا تھا۔ بعث پارٹی کے اراکین اور صدام حسین کی فوج میں شامل افراد کے بارے میں مسلسل یہ خیال پایا جاتا رہا ہے کہ وہ اتحای فوج کے خلاف کارروائیوں میں مصروف گروہوں کی مدد کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ ملک میں جاری پرتشدد کارووائیوں میں مصروف گروہوں سے اسلحلہ واپس لینا نوری المالکی کے منصوبے کا دوسرا اہم حصہ ہے۔