Saturday, 24 June, 2006, 06:33 GMT 11:33 PST
نیپال میں ایک عدالتی کمیشن نے کہا ہے کہ سابق شاہی حکومت کے ارکان کو طلب کرکے ان کے خلاف لگائے جانے والے مظالم کے الزامات کی پوچھ گچھ کی جائے گی۔
اس سال کے آغاز میں جمہوریت کے حق میں کیئے گئے مظاہروں کے دوران شاہی حکومت کی جانب زیادتی کے کئی الزامات ہیں۔ یہ کمیشن ان حالات و واقعات کی تحقیق کے لیئے خصوصی طور پر قائم کیا گیا ہے۔
احتجاجی مظاہروں کے دوران 21 افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوگئے تھے۔
بڑے پیمانے پر احتجاج کے سلسلے کے نتیجے ہی میں نیپال کے شاہ نے براہ راست اقتدار چھوڑ کر پارلیمان بحال کی تھی۔
عدالتی کمیشن کے چیئرمین کرشنا رایاماجھی نے بتایا ہے کہ کمیشن نے ابتدائی تحقیقات مکمل کرلی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کمیشن سابق شاہی حکومت کے ارکان کو اگلے ہفتے طلب کرکے ان سے پوچھ گچھ کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات کی بنیاد انصاف پر ہونی چاہیئے اور شاہی حکومت کے اکان کو اپنے بیانات قلمبند کرونے کا پوا موقع دیا جائے گا۔
ابھی ان افراد کے ناموں کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم چند اخبارات نے قیاس آرائیاں کی ہیں کہ اس فہرست میں شاہ گیانندرہ کے نائب ڈاکٹر تلسی گری اور فوج کے سابق سربراہ جنرل سشت شمشیر رانا شانل ہو سکتے ہیں۔
اطلاعات ہیں کہ شاہ گیانندرہ کے ایک اہم مشیر سراد چندرہ شاہ بدھ کے روز بیرون ملک جاچکے ہیں۔
کمیشن کو اپنی رپورٹ اگلے ماہ پیش کرنی ہے۔