Saturday, 24 June, 2006, 11:33 GMT 16:33 PST
شمالی عراق کے شہر کرکک میں ایک بم حملے میں مقامی خفیہ ادارے کے سربراہ اور ان کے دو ساتھی ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ امریکی فوج نے اپنے دو فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
عراقی پولیس کے مطابق کرکک میں یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب خفیہ ادارے کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل موسی حاتم الحدیدی کی گاڑی سڑک کے کنارے نصب ایک بم سے ٹکرا گئی۔
علاوہ ازیں عراق کے دیگر شہروں سے بھی ہلاکتوں کی اطاعلات ہیں۔ بعقوبہ میں علیحدہ علیحدہ واقعات میں کم از کم تین افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ بغداد کے شمال میں عراق سکیورٹی فورسز کے متعدد اراکین کی لاشیں ملی ہیں۔
امریکی فوج کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بھی کہا گیا ہے کہ بغداد میں ایک امریکی فوجی سڑک کنارے نصب بم پھٹنے سے ہلاک ہوا ہے جبکہ ایک اور فوجی بھی مارا گیا ہے تاہم اس کی ہلاکت کا تعلق لڑائی سے نہیں ہے۔
دریں اثناء عراقی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی فوج نے تکریت کے ایک اہم سنّی مذہبی رہنما کوگرفتار کیا ہے۔ سینیئر عراقی افسران کا کہنا ہے کہ مفتی شیخ جمال عبدالدابان کی گرفتاری مکمل طور پر غیر منصفانہ ہے اور اس کے خلاف احتجاجاً صوبائی محکموں میں کام روک دیا گیا ہے۔ مفتی جمال کی گرفتاری پر تکریت کی سڑکوں پر بھی مظاہرے ہوئے ہیں۔
عراق کی ایک اہم سنّی تنظیم ایسوسی ایشن آف مسلم سکالرز کا کہنا ہے کہ امریکی فوج نے مفتی جمال کے گھر پر چھاپے کے دوران بربریت کا مظاہرہ کیا جبکہ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ یہ چھاپہ اور گرفتاری ان کی تفتیش کا حصہ ہے۔