Friday, 23 June, 2006, 13:42 GMT 18:42 PST
راجر ہارڈی
اسلامی امور کے بی بی سی کے تجزیہ کار
عالمی سطح پر کرائے جانے والی رائے شماری کے ایک جائزے سے اسلام اور مغرب کے درمیان ایک گہری خلیج کا پتہ چلتا ہے۔ یہ سروے واشنگٹن میں واقع ادارے پیو ریسرچ سنٹر کے ذریعے کرایا گیا ہے۔
اس سروے کے مطابق اسلام اور مغرب ایک دوسرے کو انتہاپسند، تشدد پسند اور خواتین کی ابتری کا مرتکب تصور کرتے ہیں۔ اس سروے کے تحت محققین نے تیرہ ممالک میں چودہ ہزار افراد سے بات چیت کی۔
لگتا ہے کہ گزشتہ سال لندن کی زیرزمین ٹرین میں ہونے والی بمباری سے لیکر پیغمبر محمد کے متنازعہ کارٹون جیسے واقعات کا اسلام اور مغرب کے تعلقات پر اثر پڑا ہے۔
پیو ریسرچ سنٹر کے اس سروے میں دونوں کے درمیان ایک ’گہری خلیج‘ کی بات کی گئی ہے۔ مغرب میں متعدد لوگ مسلمانوں کو تشددپسند اور انتہاپسند سمجھتے ہیں۔ ان کے خیال میں جب کوئی ایک مذہبی شخص کی حیثیت سے آج کے جدید معاشرے میں جینے کی کوشش کرتا ہے تو ایک تضاد پیدا ہوجاتا ہے۔
پہلی بار اس سروے کے محققین نے ان مسلمانوں سے بھی انٹرویو کیے جو چار یورپی ممالک برطانیہ، اسپین، جرمنی اور فرانس میں بستے ہیں۔ اس سروے میں یورپی مسلمانوں کے اندر مغرب کے مثبت پہلوؤں کو سمجھنے کی ایک کوشش دیکھی گئی۔
اس سروے کے مطابق کئی مسلم ممالک میں خودکش بمباری اور شہریوں پر ہونے والے دیگر حملوں کی حمایت میں کمی دیکھی گئی ہے۔ تاہم سروے میں یہودیوں کے خلاف جذبات بڑے پیمانے پر دیکھنے کو ملے اور کئی ممالک میں یہ تاثر عام تھا کہ امریکہ پر گیارہ ستمبر کے حملے عربوں نے نہیں کیے۔
سروے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پیغمبر اسلام کے متنازعہ کارٹونوں پر رائے عامہ پوری تقسیم ہوگئی تھی۔ مسلمانوں نے اسلام کی جانب مغربی باشندوں کے دل میں عزت کی کمی کو ذمہ دار ٹھہرایا، جبکہ غیرمسلم مغربی باشندوں نے اس مسئلے کو مسلمانوں کے اندر دوسروں کے خیالات کو برداشت نہ کرنے کی علامت بتایا۔