Friday, 23 June, 2006, 10:04 GMT 15:04 PST
عراق میں پولیس کا کہنا ہے کہ بصرہ اور بعقوبہ میں جمعہ کے روز ہونے والے بم دھماکوں میں کم سے کم سولہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
بعقوبہ میں بم دھماکہ ایک مسجد کے باہر ہوا اور اس میں بارہ افراد ہلاک ہوئے۔ پولیس کے مطابق بم مسجد کے باہر ایک تھیلے میں چھوڑا گیا تھا۔
بصرہ میں ایک پیٹرول سٹیشن کےسامنے بم کے دھماکے کم از کم چار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ لوگ اس وقت پیٹرول بھروانے کے لیئے قطار میں کھڑے تھے ۔
ادھر بغداد میں مہدی آرمی کا کہنا ہے کہ بندوق برداروں نے اس کے سات افراد ہلاک کر دیئے ہیں۔
بعقوبہ کے قریب ہونے والا حملہ اس گاؤں (حب حب) کے باہر ہوا ہے جہاں ابو مصائب الزرقاوی کو ہلاک کیا گیا تھا۔
بصرہ عراق کا دوسرا سب سے بڑا شہر ہے۔ عراقی وزیر اعظم نور المالکی نے پچھلے ماہ یہاں ہنگامی حالت نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا۔
بصرہ میں اس وقت آٹھ ہزار کے قریب برطانوی فوجی تعینات ہیں۔
بغدادا میں کرفیو
ادھر عراقی دارالحکومت بغداد میں جمعہ کے روز دوپہر دو بجے سے شام چھ بجے تک کے کرفیو لگانے کا اعلان کیا گیا۔ بغداد میں روزانہ رات کو کرفیو لگایا جاتا ہے جو رات ساڑھے آٹھ سے صبح چھ بجے تک نافذ رہتا ہے۔
دریں اثناء عراقی حکومت ایک منصوبہ بنا رہی ہے جس کے تحت اسلحہ ہتھیار پھینکنے والے مزاحمت کاروں کو عام معافی دی جائے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار کیئے جانے والے ان افراد کو بھی معافی دی جائے گی جو تشدد کا راستہ ترک کر دیں۔
جمعہ کو ابو غریب جیل سے پانچ سو قیدیوں کو بھی رہا کیا جا رہا ہے۔