http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 21 June, 2006, 23:59 GMT 04:59 PST

سات میرینز کو مقدمے کا سامنا

گزشتہ اپریل میں عراق کے گاؤں ہمدانیہ میں ایک معذور شخص کو گولی مار کر ہلاک کرنے کے الزام میں سات امریکی میرینز اور ایک سیلر پر فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔

ملزموں کو کیلفورنیا میں کیمپ پینڈلیٹن میں رکھا گیا ہے جہاں کے ایک ترجمان نے بتایا کہ امریکی فوجیوں کو اغواء، قتل اور سازش جیسے الزامات کا سامنا ہے۔

حدیثہ میں قتلِ عام کی تحقیقات ہوں گی

پینٹاگون حدیثہ میں گزشتہ سال نومبر میں چوبیس عراقی شہریوں کے قتل کے الزامات کی بھی تحقیقات کر رہا ہے۔

ہمدانیہ کے حوالے سے تحقیقات ان دعووں پر مرتکز رہے گی کہ چھبیس اپریل کو ایک شخص کو جان بوجھ کر ہلاک کیا گیا تھا۔

امریکہ میں میرین کو اس بات پر فخر کرتی ہے کہ وہ اپنے اراکین کے اعمال پر ان سے جواب دہی کرنے میں مشہور ہے۔

میرینز پر الزام ہے کہ انہوں نے ہمدانیہ کے باون سالہ شخص کو اس کے گھر سے نکالا، اسے گولی ماری اور بعد میں اس کے لاش کے قریب ایک رائفل اور بیلچہ اس لیئے رکھ دیا تاکہ لوگ یہ سمجھیں کہ یہ شخص مزاحمت کار تھا جو سڑک کے کنارے بم نصب کرنا چاہتا تھا۔

مقامی عراقیوں نے میرینز کے سربراہ کو اس مبینہ شوٹنگ کے بارے میں بتایا تھا جس کے بعد انکوائری شروع ہوئی۔ ان ملزموں کو عراق سے کیلفورنیا لے جایا گیا جہاں ان کے خلاف تحقیقات ہو رہی ہیں۔

فوج کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ تمام ملزموں کو ابتدائی طور پر بے گناہ قرار دیا جاتا ہے اور یہ حکام پر منحصر ہے کہ وہ یہ فیصلہ کریں کہ کسی عدالتی کارروائی میں انہیں سزائے موت دی جانی ہے یا نہیں۔

عراق میں نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ہمدانیہ اور حدیثہ میں ہونے والے یہ واقعات میرینز کے خلاف ناپسندیدہ پبلسٹی کا باعث بن گئے ہیں اور خود فوج میں عراق میں فرائض ادا کرنے والے کچھ میرینز کے طرزِ عمل پر تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔

ادھر امریکی فوج نے بتایا ہے کہ ایک چوتھے امریکی فوجی پر بھی قتل کے الزامات لگے ہیں۔ تین فوجیوں پر پہلے ہی تکریت میں تین عراقی قیدیوں کو قتل کرنے کا ملزم ٹھہرایا گیا تھا۔