Wednesday, 21 June, 2006, 03:58 GMT 08:58 PST
صدر جارج بش کے قومی سلامتی کے مشیر سٹیون ہیڈلی نے کہا ہے کہ شمالی کوریا دور تک مار کرنے والے میزائل کی آزمائش کرنے کے اعلان سے جان بوجھ کر بین الاقوامی کشیدگی بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
ادھر امریکی حکومت نے یہ کہا ہے کہ بظاہر دکھائی دیتا ہے کہ شمالی کوریا اس میزائل کی آزمائش کی طرف جا رہا ہے جو امریکی علاقوں کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔
تاہم پینٹاگون نے ان اطلاعات کی تصدیق یا تردید سے انکار کیا ہے کہ کوریا کے ممکنہ تجربے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے امریکہ نے اپنا دفاعی میزائل نظام متحرک کر دیا ہے۔
میزائل کی آزمائش کی خبروں کے بعد پیانگ یانگ پر مسلسل دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے اور جنوبی کوریا کے سابق صدر کم ڈائیاجنگ نے شمالی کوریا کا دورہ منسوخ کر دیا ہے۔
شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ میزائلوں کے تجربے کرنا اس کا حق ہے۔ تاہم یہ اطلاعات بھی ہیں کہ شمالی کوریا نے امریکہ کو مذاکرات کا عندیہ دیا ہے تاکہ اس نزاعی مسئلے کو حل کیا جا سکے۔
سٹیون ہیڈلی جو بش انتظامیہ میں قومی سلامتی کے سینئر مشیر ہیں انہوں نے بھی نامعلوم امریکی افسروں کے اس بیان کی تصدیق یا تردید سے انکار کیا ہے کہ امریکہ اپنے دفاعی میزائل نظام کو حرکت میں لے آیا ہے تاکہ اس ساحل کی جانب اگر کوریا کا میزائل آئے تو اسے مار گرایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا شمالی کوریا نے اپنے میزائل کا کام مکمل کر لیا ہے یا نہیں۔
امریکی اہلکاروں نے اس پر بھی کوئی تبصرہ نہیں کیا کہ اگر میزائل کا رخ ان کی طرف ہوا تو وہ کیا اقدام کریں گے۔
واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن بیل کہتے ہیں کہ اگر امریکہ شمالی کوریا کے میزائل کو مار گراتا ہے تو اس سے کشیدگی میں اور اضافہ ہوگا۔
گزشتہ روز اعلیٰ امریکی حکام نے شمالی کوریا پر زور دیا تھا کہ وہ دو تک مار کرنے والے میزائل کی ’اشتعال انگیز‘ آزمائش کا ارادہ ملتوی کردے۔
امریکی وزیرِ خارجہ کونڈو لیزا رائس نے کہا تھا کہ شمالی کوریا کا میزائل کی آزمائش امریکی نگاہ میں بہت سنگین مسئلہ ہوگا۔
جاپان، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے بھی شمالی کوریا کو ایسا ہی انتباہ کیا تھا۔
شمالی کوریا نے انیس سو ننانوے سے اب تک ایک خود ساختہ پابندی کے تحت میزائل کا کوئی ٹیسٹ نہیں کیا ہے لیکن اب اس نے ایک میزائل کا ایک نیا ماڈل تیار کیا ہے جو الاسکا تک پہنچ سکتا ہے۔
ٹائی پونگ ڈونگ 2 نامی اس میزائل کی مار چھ ہزار کلومیٹر تک بتائی جاتی ہے۔
واشنگٹن میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کونڈولیزا رائس شمالی کوریا کے میزائل کی ممکنہ آزمائش کے منصوبے کی شدید مخالفت کی۔
انہوں نے کہا: ’میں آپ کو یقین دلاتی ہوں کہ اگر شمالی کوریا نے ایسا کوئی تجربہ کیا تو ہمارے نزدیک یہ بڑا سنگین معاملہ ہوگا۔ یہ واقعی ایک اشتعال انگیز عمل ہوگا۔‘
انہوں نے کہا ’ہم اپنے حلیف ممالک سے مشاورت کریں گے لیکن میں واضح کرنا چاہتی ہوں کہ شمالی کوریا کا کوئی بھی تجربہ سنگین ہوگا۔‘
انہوں نے کہ کہ شمالی کوریا نے اتفاق کیا تھا کہ وہ کسی نئے میزائل کا تجربہ نہیں کرے گا۔