Monday, 19 June, 2006, 11:25 GMT 16:25 PST
معزول عراقی رہنما صدام حسین کے مقدمے میں استغاثہ نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ سابق صدر کو پھانسی کی سزا دی جائے۔
صدام حسین کا مقدمہ آخری مراحل میں داخل ہو چکاہے اور استغاثہ نے اپنے دلائل شروع کر دیئے ہیں۔استغاثہ نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ صدام حسین کو سخت ترین سزا دی جائے۔
صدام حسین اور ان سات ساتھیوں پر الزام ہے کہ ان کے حکم پر شیعہ آبادی والے دجیل میں صدام حسین پر ایک ناکام قاتلانہ حملے کے بعد فوجی ہیلی کاپٹروں اور پیدل افواج نے حملہ کرکے ایک سو چالیس دیہاتیوں کو ہلاک کر دیا تھا اور سینکڑوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
استغاثہ کے اختتامی دلائل سننے کے بعد پانچ ججوں کا ایک بینچ صدام حسین کے خلاف لگائے گئے الزامات پر اپنا فیصلہ صادر کرے گا۔صدام حسین اور مقدمے کے دوسرے ملزمان نے الزام کی تردید کی ہے۔
استغاثہ کے ایک وکیل نے، جن کا نام حفاظتی خدشات کی بنا پر جاری نہیں کیا ہے، عدالت کو بتایا کہ ملزمان نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت شیعہ لوگوں کا قتل عام کروایا گیا۔
استغاثہ نے کہا کہ ملزمان نے مردوں، عورتوں اور بچوں کو حراست میں رکھ کر ان کو ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا۔
استغاثہ کے وکیل نے کہا ہے کہ صدام حسین پر قاتلانہ حملے کو بہانہ بنا کر معصوم لوگوں کا قتل عام کیا گیا حالانکہ ایسا کوئی حملہ ہوا نہیں تھا۔
ملزمان کا موقف تھا کہ صدام حسین پر قاتلانہ حملے کے بعد آپریشن ناگزیر تھا۔
پیر کو جب مقدمے کی سماعت شروع ہوئی تو وکیل صفائی نے عدالت کی کارروائی میں خلل ڈالنے کی کوشش کی۔وکیل صفائی برزن التکرتی صدام حسین کے سوتیلے بھائی بھی ہیں
عدالت کے سربراہ رؤف عبدالرٰحمن نے وکیل صفائی کو بتایا کہ استغاثہ کے دلائل ختم ہونے کے بعد ہی ان کو مزید دلائل دینے کا موقع مل سکے گا۔
بعض مبصرین کے خیال میں ملزمان کو اپنا مقدمہ عدالت میں پیش کرنے کے لیئے بہت کم وقت دیا گیا ہے۔
سابق عراقی صدر کے خلاف مقدمہ آٹھ ماہ پہلے شروع ہوا تھا۔اس دوران صدام حسین اور دوسرے ملزمان کے دو وکلاء کو قتل کیا جا چکا ہے۔