Tuesday, 20 June, 2006, 00:00 GMT 05:00 PST
امریکی صدر جارج بش نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے جوہری پروگرام منجمد کر کے مذاکرات کی پیشکش مسترد کی تو اس سخت تر پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
امریکی صدر نے کہا اگر ایران نے اس پیشکش کو ٹھکرایا تو عالمی سطح پر اس کی تنہائی کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ ایران کو جو پیشکش کی گئی ہے اس میں تجارتی اور سکیورٹی کی ضمانتیں شامل ہیں بشرطیکہ اپنا متنازعہ جوہری پروگرام ترک کر دے۔
یورپی اتحاد اور امریکہ چاہتے ہیں کہ ایران ان خدشات کا ازالہ کرے کہ وہ جوہری بم بنانے کی کوشش میں ہے۔
ایران کہتا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام کا کسی بھی قسم کا فوجی پہلو نہیں ہے اور ابھی تک اس نے رسمی طور پر امریکہ اور یورپی اتحاد کی پیشکش پر ردِ عمل ظاہر نہیں کیا۔
تاہم ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے اس پیشکش کو آگے کی طرف ایک قدم قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ان کا ملک اپنے مشوروں کے ساتھ امریکی اور یورپی اتحاد کی تجویز پر ردِ عمل ظاہر کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
فی الحال ایرانی ماہرین اس تجویز پر غور کر رہے ہیں اور ان کے نتائج سامنے آنے کے بعد ہی ایران کی حکومت اپنے موقف کو سامنے لائے گی۔
امریکی صدر نے کہا اگر ایران نے پیشکش کو رد کیا تو اسے عالمی سطح پر تنہا ہونے پڑے گااور سیاسی اور معاشی پابندیوں کا سامنا کرنا ہوگا جو سخت تر ہوں گی۔
پہلے ہی صدر بش کہہ چکے ہیں کہ مذاکرات کی پیشکش پر ردِ عمل ظاہر کرنے کے لیئے ایران کے پاس مہینے نہیں بلکہ ہفتے ہیں۔
امریکہ میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ صدر بش کا یہ تازہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ امریکہ کے ہاتھ سے صبر کا دامن چھوٹ رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ایک مرتبہ پھر ایران پر دباؤ بڑھا دیا ہے اور اسے خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے مذاکرات کی پیشکش قبول نہ کی تو اس کے کیا نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔