Saturday, 17 June, 2006, 09:57 GMT 14:57 PST
امریکہ کی زیر قیادت اتحادی افواج کا کہنا ہے کہ انہوں نے جنوبی افغانستان میں ایک حملے کے دوران چالیس طالبان کو ہلاک کر دیا ہے۔ حملے کے وقت صوبہ ارزگان میں پچاس کے قریب طالبان میٹنگ میں مصروف تھے۔
ایک علیحدہ واقعے میں مشرقی صوبے کنڑ میں دو اتحادی فوجی اس وقت ہلاک ہو گئے جب ان کی گاڑی دھماکے میں تباہ ہو گئی۔ افغانستان میں پچھلے دو ماہ کے دوران لڑائی میں شدت آئی ہے۔
جنوبی اور مشرقی علاقوں میں سینکڑوں مشتبہ طالبان اور شدت پسند ہلاک ہو چکے ہیں۔ امریکی فوج کے مطابق حالیہ حملہ جمعے کو کیا گیا۔ اتحادی افواج کو طالبان کی اس میٹنگ کی اطلاع مل چکی تھی تاہم انہوں نے ان کے اکٹھے ہونے کا انتظار کیا۔
امریکی فوج کے ترجمان لیفٹینینٹ کرنل پال فٹزپیٹرک نے اخبار نویسوں کو بتایا ہے کہ ’حملے سے عمارت بری طرح تباہ ہو گئی ہے اور ہمارا اندازہ ہے کہ اس میں موجود زیادہ تر افراد ہلاک ہو گئے ہیں‘۔
اتحادی افواج نے جمعہ کو جاری کیئے گئے ایک بیان میں پچھلے دو دنوں کے دوران صوبہ پکتیکا میں چالیس شدت پسندوں کی ہلاکت کا بھی دعویٰ کیا۔ اس بیان میں بتایا گیا کہ ان کارروائیوں کے دوران ایک اتحادی فوجی بھی ہلاک ہوا۔
یہ کارروائی آپریشن ’ماؤنٹین تھرسٹ‘ کا حصہ تھی جو دو ہزار ایک میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد اتحادی افواج کی جانب سے مزاحمت کاروں کے خلاف سب سے بڑی کارروائی سمجھی جا رہی ہے۔
افغانستان کے چار صوبوں ہلمند، ارزگان، قندھار اور زابل میں جہاں مزاحمت زیادہ ہے امریکہ، کینیڈا، برطانیہ اور افغانستان کے دس ہزار سے زیادہ فوجی تعینات کیئے گئے ہیں۔