Saturday, 17 June, 2006, 04:31 GMT 09:31 PST
امریکی وزیرخارجہ کونڈولیزا رائس نے کہا ہے کہ امریکہ اور یورپی اتحاد ایک ایسے سمجھوتے کے قریب ہیں جس کے تحت فلسطینیوں کو عالمی امداد دینے کا طریقۂ کار طے ہوجائے گا۔
یورپی اتحاد نے فلسطینیوں کو دس کروڑ یورو دینے کا فیصلہ کیا ہے لیکن وہ اس پر عمل درآمد کے لیے مشرق وسطٰی میں ثالثی کرنے والے امریکہ، اقوام متحدہ اور روس کی منظوری کا منتظر ہے۔
واشنگٹن سے بی بی سی کے نامہ نگار جونتھن بیل کے مطابق اتحاد نے حماس حکومت کی حمایت کیے بغیر فلسطینیوں کی مدد کرنے میں پہل کی ہے۔
امریکہ اور یورپی اتحاد نے فلسطینی انتخابات میں حماس کی کامیابی کے فوراً بعد فلسطین کی امداد بند کردی تھی کیونکہ دونوں حماس کو دہشت گرد قرار دیتے ہیں۔
امدا کی بندش کے نتیجے میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ فلسطینی سرکاری ملازمین کو کئی ماہ سے تنخواہیں بھی نہیں ملیں۔ تاہم اب یورپی اتحاد صحت عامہ، بجلی کی فراہمی اور غریب فلسطینیوں کی براہ راست مدد کا طریقۂ کار طے کیا ہے۔
اس بارے میں فرانس کے صدر یاک شیراک نے کہا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بات قطعی غیراخلاقی، ناقابل قبول اور سیاسی لحاظ سے بہت قابل اعتراض ہوگی کہ فلسطینیوں کو ان کے سیاسی انتخاب کی سزا دی جائے۔ اس لحاظ سے فرانس ہر سطح پر تنخواہوں کی ادائیگی سمیت فلسطینیوں کی مدد کرنے کی حمایت کرتا ہے‘۔
نئے طریقۂ کار کے تحت اساتذہ اور طبی عملے کو پچھلی بقایا تنخواہیں تو ادا نہیں کی جائیں گی لیکن سماجی شعبے میں ضرور الاؤنس دیے جائیں گے۔
یورپی اتحاد اور اقوام متحدہ کو یقین ہے کہ اس نوعیت کا انتظام فلسطینی علاقوں میں بحران سے بچنے کے لیے ضروری ہے۔
امریکہ نے طبی مدد کے لیے کچھ پیش کش تو کی ہے لیکن وہ چاہتا ہے کہ بین الاقوامی برادری حماس پر دباؤ برقرار رکھے۔ امریکہ بہرحال اس انتظام میں شریک نہیں ہورہا۔