Friday, 16 June, 2006, 02:45 GMT 07:45 PST
حسن مجتبی
سان ڈیاگو، کیلیفورنیا
امریکی محمکمۂ دفاع پینٹاگون نے کہا ہے کہ جنگ عراق میں اب تک ڈھائی ہزار امریکی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔ جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک ہلاک ہونے والے شہریوں کی تعداد ایک اندازے کے مطابق اڑتیس ہزار سے پینتالیس ہزار ہو چکی ہے۔
یہ بات جمعرات کے روز واشنگٹن ڈی سی میں امریکی کانگریس کے اراکین نے عراق اور افغانستان پر پیش کی جانے والی قرارداد پر گرما گرم بچث میں بتائی جسے اس سے قبل امریکی میڈیا سے بھی نشتر کیا گیا۔ پہلے دن بحث میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والوں میں اکثریت کیلیفورنیا کے ارکان کی تھی۔
امریکی کانگریس میں ڈیموکریٹک پارٹی کے منتخب اراکین نے صدر بش کی عراق جنگ کے بارے میں پالیسیوں پر زبردست تنقید کرتے ہوئے عراق اور دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کو دو الگ الگ چیزیں قراردیا ہے۔ جب کہ ایک رکن نے امریکی وزیر دفاع رونالڈ رمز فیلڈ کی برطرفی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
عراق میں شہریوں کی ہلکتوں کا ریکارڈ اکھٹا کرنے والی تنظیم کے مطابق عراق میں اب تک اڑتیس ہزار سے پینتالیس ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
امریکی ایوان نمائندگان میں عراق اور افغانستان پر پیش کی جانے والی قرار داد پر بحث بدھ کی دوپہر شروع ہوئی اور اب اس قرارداد پر ووٹنگ ہو گی۔
حال ہی میں عراق، افعانستان اور پاکستان کا دورہ کر کے لوٹنے والی کیلیفورنیا سے ڈیموکریٹک پارٹی کی منتخب رکنِ کانگریس جین ہارمین نے بحث کا آغاز کرتے ہوئے امریکی محکمۂ دفاع کے سیکریٹری دفاع کے سیکریٹری ڈونالڈ رمز فیلڈ کو ہٹانے کا مطالبہ کیا، بقول ان کے، ’ان کی برطرفی بہت پہلے ہوجانی چاہیے تھی کیونکہ انہوں نے جنگ عراق کے معاملے پر سینیئر امریکی فوجی قیادت کو گمراہ کیا تھا۔
جین ہارمین نے جنگ عراق شروع کرنے سے قبل امریکی انٹیلیجنس اداروں کی کارکردگی پر بھی کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عراق میں وسیع تباہی کے ہتھیار ہونے کی غلط اطلاعات مہیا کر کے جھوٹ سے کام لیا تھا۔
![]() | |
| جنگ مخالف مظاہروں کے دوران تابوتوں کا جلوس |
انہوں نے کہا کہ ان کے دورے سے زیادہ اہمیت عراق کی متعلق پالیسیاں تبدیل کرنے کی ہے۔
کانگریس وومن جین ہارمین نے بدھ کو پینٹاگون سے جاری ہونیوالی اس رپورٹ کا خاص طور پر ذکر کیا جس میں امریکی محکمۂ دفاع نے پہلی مرتبہ بتایا ہے کہ جنگ عراق شروع ہونے سے اب تک امریکہ کے دو ہزار پانچ سو فوجی (مرد وخواتین) ہلاک ہوچکے ہیں جب کہ زخمی ہونیوالوں کی تعداد، بقول جین ہارمین کے، بیس ہزار کے قریب ہے۔
جین ہارمین نے کہا کہ جنگ عراق کے منفی اثرات امریکی فوج پر آئندہ عشرے تک رہیں گے۔
جین ہارمین نے عراق اورعالمی دہشت گردی کو دو الگ الگ حقائق بتاتے ہوئے کہا کہ صدر بش عراق اور القاعدہ میں جنگ عراق سے پہلے تعلق ثابت کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں اور اب یہ بھی جھوٹ ثابت ہو چکا ہے کہ چیک رپبلک کے شہر پراگ میں گیارہ ستمبر کے ہائی جیکروں کے سرغنہ محمد عطا اور عراقی جاسوسی ایجنسی کے سینیئر اہلکاروں کے درمیاں ملاقات ہوئی تھی۔
بہر حال پاکستان کا دورہ کرنے والے اس رکن نے جہاں یہ اعتراف کیا کہ القاعدہ سے تعلق رکھنے والے اہم دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا ہے وہاں انہوں نے اب تک اسامہ بن لادن اور ان کے نمبر دو ایمن الظواھری کی عدم گرفتاریوں پر شدید تنقید کی۔
![]() | |
| امریکیوں کی حمایت یا امریکی اور اتحادیوں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والل شہریوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے |
انہوں نے عراق میں حال ہی میں مصعب الزرقاوی کی ہلاکت پر منتج آپریشن میں اس کی ہلاکت کے مقام سے ان دستاویزات کا بھی ذکر کیا جو، بقول ان کے، زرقاوی اور عالمی دہش گردوں کے امریکی فوج اور عوام کے خلاف عزائم کا پتہ دیتی ہیں۔
نیوجرسی سے ڈیموکریٹک پارٹی کے منتخب رکن رش ہولٹ نے عراق قرارداد پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ صدر بش ، جن کی امریکی عوام میں مقبولیت کا گراف اب تینتیس فیصد سے بھی نیچے جا پہنچا ہے نے عراق پر جنگ کا جواز پہلے وسیع تباہی کے ہتھیار اور وہاں اقوام متحدہ کے انسپکٹروں کی ناکامی بتائی اور پھر صدام حسین حکومت اور القاعدہ کا تعلق بتایا اور پھر جمہوریت کی عراق میں بحالی اور اب پھر دہشت گردی بتا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ اب امریکی فوجوں کے وردی میں واپسی اور عراق کی گلیوں میں عراقی فوجیوں اور عوام کی سلامتی کا ہے۔
عراق میں جنگ کے اسباب |
کیلیفورنیا سے ہی لاس اینجلس سے منتخب ہونیوالی ڈییموکریٹک رکن ڈایان واٹسن نے کہا کہ صدر بش نے ہیمں بتایا تھا کہ وہ ’مشن کی تکمیل تک‘ عراق میں جنگ جاری رکھیں گے لیکن یہ آج تک کسی کو معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ مشن آخر ہے کیا۔ انہوں نے کہا ’دہشت گردی کے خلاف جنگ کیسے جیتی جا سکتی ہے جب کہ دہشت گردی ایک تصور ہے۔‘
کانگریس میں عراق پر کی جانے والی یہ بحث مقامی ٹیلیویزن سے براہِ راست نشر کی گئی۔