Friday, 16 June, 2006, 09:51 GMT 14:51 PST
بغداد میں پولیس ذرائع کے مطابق جمعہ کو ایک شیعہ مسجد پر خودکش حملے میں کم از کم گیارہ افراد ہلاک اور بیس کے قریب زخمی ہو گئے ہیں۔
بغداد میں وزیر اعظم نوری الماکی کے حکم پر سکیورٹی کے انتظامات سخت کرنے کے بعد سے دارالحکومت میں پیش آنے والا تشدد کا یہ پہلا واقعہ ہے۔
شیعہ مسجد پر یہ حملہ جمعہ کی نماز سے کچھ سے قبل کیا گیا۔ مسجد کے امام شیخ جلال الدین نے جو نو منتخب عراقی پارلیمان کے سرکردہ رکن بھی ہیں بی بی سی کو بتایا کہ اس حملے کا ممکنہ ہدف وہ تھے۔
حکومت ابو معصب الزاقاوی کی امریکی فوج کے حملے میں ہلاکت کے بعد تشدد کے واقعات میں اضافے کی توقع کر رہی تھی۔
گزشتہ ہفتے وزیر اعظم نوری الماکی نے عراق میں سکیورٹی کے انتظامات سخت کرنے کے احکامات جاری کیئے تھے، جن کے تحت شہر کی سڑکوں پر چالیس ہزار کے قریب سکیورٹی فورسز کے اہلکار تعینات کر دیئے گئے تھے، شہر میں رات کا کرفیو بھی لگا دیا گیا اور نماز جمعہ سے قبل گاڑیوں کے بھی سڑکوں پر آنے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔
دو ماہ قبل بھی دو خودکش حملہ آواروں نے اسی مسجد کو نشانہ بنایا تھا جس میں پچاس کے قریب لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔