Thursday, 15 June, 2006, 22:48 GMT 03:48 PST
روس کے صدر ولادی میر پوتین نے کہا ہے کہ جوہری معاملات طے کرنے کے لیئے ایران کا رویہ مثبت ہے۔
چین میں شنگھائی تعاون تنظیم کی سالانہ سربراہی کانفرنس کے موقع پر روس کے صدر ولادی میر پوتین نے ایران کے صدر محمد احمدی نژاد سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ ایران کےجوہری معاملے کو طے کرنے کے لیئے بین الاقوامی تجاویز پر ایران کا رد عمل مثبت ہے۔
صدر پوتین نے کہا کہ ’اول تو ایران نے ان تجاویز پر مثبت ردِ عمل ظاہر کیا ہے اور دوسرے ایران مذاکرات شروع کرنے کے لیئے تیار ہے اور تیسرے مجھے امید ہے کہ ایران مذاکرات کے آغاز کے لیئے جلد ہی نظام الاوقات پر اپنا موقف واضع کر دے گا‘۔
اس سے قبل گزشتہ ہفتے امریکی صدر جارج بش بھی کہہ چکے ہیں کہ ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں بین الاقوامی تجاویز پر ایران کا ابتدائی رد عمل مثبت معلوم ہوتا ہے۔
جوہری معاملات پر ایران کے مذاکرات کار علی لاریجانی نے کہا ہے تھا کہ یورپی یونین کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز میں کچھ مثبت پہلو بھی ہیں جبکہ کچھ مبہم ہیں۔
یورپی یونین کے مجوزہ پیکیج کو ابھی عام نہیں کیا گیا لیکن بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ اس پیکیج میں ایران کو ’ لائٹ واٹر‘ یعنی ہلکے پانی والا جوہری ری ایکٹر اور سویلین طیاروں کے لیے امریکی پرزے خریدنے کی اجازت ہوگی۔
صدر بش نے کہا تھا کہ یورپی یونین کی تجاویز پر ایران کا ردعمل مثبت معلوم ہوتا ہے لیکن یہ وقت ہی بتائے گا کہ ایران واقعی معاملے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے میں سنجیدہ ہے یا نہیں۔