Thursday, 15 June, 2006, 04:12 GMT 09:12 PST
گوانتانامو بے میں مبینہ خود کشی کرنے والے تین میں سے ایک قیدی کے والد کا کہنا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ ان کے بیٹے کو قتل کیا گیا ہے۔
امریکیوں کا اصرار ہے کہ تینوں قیدیوں نے خود کشی کی ہے تاہم ابھی طبی رپورٹوں کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
دریں اثنا امریکی صدر جارج بش نے کہا ہے کہ وہ گوانتانامو بے کے قید خانے کو بند کرنا چاہتے ہیں لیکن اس سے پہلے کچھ انتظامات کرنا ہوں گے۔
صدر بش نے پہلے بار گوانتنامو بے میں ہونے والی خود کشیوں کے ان واقعات کا سرِ عام ذکر کرتے ہوئے قیدیوں کو انتہائی خطرناک اور مردود قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ انہیں عدالتوں میں پیش کرنا ہو گا لیکن بقول صدر بش کے ’اس کا انحصار اس پر ہے کہ امریکی سپریم کورٹ ان کے مقدمات فوجی عدالتوں میں پیش کرنے کی اجازت دیتی ہے یا نہیں‘۔
امریکہ کے نائب وزیر خارجہ برائے سفارت کاری کولین گرافی نے تین قیدیوں کی خود کشی پر اپنے رد عمل میں کہا تھا کہ خود کشیاں تعلقات عامہ ( پبلک ریلیشنز) کی مہم کا حصہ تھیں۔
گوانتاموبے جیل کے انچارج ایڈمرل ہیرسن بھی اس سے ملتے جلتے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے قیدیوں کی خود کشی کو’جنگی حربہ‘ قرار دیتے ہیں۔
خلیج گوانتانامو کے امریکی قید خانے میں خودکشی کرنے والے تین قیدیوں میں سے ایک کو رہا کیا جانے والا تھا لیکن خودکشی کرنے والے قیدی کو اس بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔
خلیج گوانتانامو میں قید کئی غیر ملکی قیدیوں کی وکالت کرنے والے مارک ڈینبیوکس نے بی بی سی کے پروگرام ’ورلڈ ٹوڈے‘ کو بتایا کہ خودکشی کرنے والا ایک قیدی ان ایک سو اکتالیس قیدیوں میں شامل تھا جنہیں رہا کیا جانے والا ہے۔
امریکی وزارتِ دفاع کے مطابق مانی شامن ترکی بھی گوانتانامو سے منتقل کیئے جانے والے تھے۔
امریکی وزارتِ دفاع نے خودکشی کرنے والے باقی دو افراد کی بھی نشاندہی کر دی ہے۔ ان دو خود کشی کرنے کے نام علی عبداللہ احمد اور یاسر طلال الزہرانی بتائے گئے ہیں۔