Tuesday, 13 June, 2006, 06:16 GMT 11:16 PST
امریکی صدر بش نے عہد کیا ہے کہ عراق میں منتخب کیئے گئے القاعدہ کے نئے سربراہ امریکہ کا نیا ’ٹارگٹ‘ ہوں گے۔
القاعدہ تنظیم نے ابومصعب الزرقاوی کی ہلاکت کے بعد ابو حمزہ المہاجر کو عراق میں تنظیم کا نیا سربراہ مقرر کیا ہے۔ الزرقاوی پچھلے ہفتے بعقوبہ کے قریب امریکی فضائی حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔
صدر بش عراق کے بارے میں مستقبل کے لائحہ عمل پر کیمپ ڈیوڈ میں اپنے اہم مشیروں سے دو روزہ بات چیت کررہے تھے۔ صدر بش کا اصرار تھا کہ ابو حمزہ المہاجر ’ہماری لسٹ‘ پر ہوں گے۔
القاعدہ کی ایک ویب سائٹ پر الزرقاوی کی جگہ شیخ ابو حمزہ المہاجر کی تقرری کا اعلان کیا گیا ہے۔ اعلان کے مطابق ابو حمزہ عالم دین ہیں اور اس سے پہلے بھی جہاد میں حصہ لیتے رہے ہیں۔
صدر بش نے الزرقاوی کی موت کو عراق میں القاعدہ کی کارروائیوں کے لیئے ایک بڑا دھچکا قرار دیا ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس سے مزاحمت کاری ختم نہیں ہوگی۔
’الزرقاوی کے جانشین کو انصاف کے کٹہرے تک لانا ہمارا اگلا ٹارگٹ ہوگا‘۔
منگل کو 30 منٹ کے اندر اندر کرکک میں دو کار بم دھماکے ہوئے ہیں جن میں پولیس کے مطابق کم از کم 15 افراد ہلاک اور 15 زخمی ہوئےہیں۔
’ہم جو بھی کریں گے وہ وہاں کی صورتحال کے مطابق کریں گے۔ امریکہ ابھی تک عراقی صلاحیتوں کے بارے میں معلومات حاصل کررہا ہے‘۔
منگل کی بات چیت کے دوران عراقی وزیر اعظم نوری المالکی کی کابینہ کے ارکان وڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوں گے۔
واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار جیمز کماراسوامی کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس کو امید ہے کہ یہ اجلاس امریکی عوام میں صدر بش کے بارے میں زیادہ اعتماد پیدا کرسکے گا۔
القاعدہ کی ویب سائیٹ کے اعلان کے مطابق الزرقاوی کے جانشین کو متفقہ طور پر چنا گیا ہے۔ ویب سائیٹ پر کہا گیا ہے ’ہم اللہ سے کہتے ہیں کہ شیخ ابو مصعب نے جو کام شروع کیا تھا اسے اللہ جاری رکھے‘۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ المہاجر ایسا نام نہیں ہے جو الزرقاوی کے جانشین کے طور پر دیکھے جاسکتے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’المہاجر‘ نام سے یہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ وہ عراقی نہیں ہیں۔
الزرقاوی کے جانشین کا اعلان اس وقت کیا گیا ہے جب امریکی فوج نے بتایا ہے کہ الزرقاوی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق وہ بم حملے میں زخمی ہونے کے باعث ہلاک ہوئے تھے۔
بی بی سی کے نامہ نگار فرینک گارڈنر کے مطابق ویب سائیٹ پر فوری طور پر اعلان کردیا گیا ہے کہ تنظیم اپنے رہنما کی ہلاکت کے باوجود بھی اپنا آپریشن جاری رکھے گی۔