یورپی یونین کے رکن ملکوں کے وزراء خارجہ ترکی کو یورپی یونین میں رکنیت دینے کے لیئے مذاکرات شروع کرنے سے پہلے قبرص کی طرف سے آخری لمحات پر اٹھائے جانے والے اعتراضات کے باوجود ایک متفقہ موقف اختیار کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔
اتوار کی رات کو قبرص کی طرف سے اعتراضات اٹھائے جانے کی وجہ سے قبرص اور یورپی یونین کے موجودہ صدر آسٹریا کے درمیان ہنگامی طور پر مذاکرات ہوئے۔
قبرص یورپی برادری پر زور ڈال رہا ہے کہ وہ ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت کو اس بات سے مشروط کرے کہ وہ قبرص کی انیس سو چوہہتر میں ہونے والی تقسیم کو تسلیم کرے اور اپنی بندرگاہوں کو قبرص کے جہازوں کے لیئے کھولے۔
ترکی نے دھمکی دی تھی کہ اگر قبرص نے مصالحت نہ کی تو وہ یورپی یونین کے لیکسمبرگ میں ہونے والے مذاکرات کا بائیکاٹ کرے گا۔
اس اتفاقِ رائے کا مطلب ہے کہ یورپی یونین میں شمولیت کے لیئے ترکی صحیح راہ پر گامزن ہے اور یورپی یونین میں شمولیت کے لیئے پینتیس ابواب میں پہلے اور آسان ترین باب کو کامیابی سے پورا کر لے گا۔
قبرص کو مئی دوہزار چار میں یورپی یونین کی رکنیت دی گئی تھی۔
قبرص کی انیس سو چوہہتر میں تقسیم ہو گئی تھی۔ ترکی نے شمالی قبرص پر قبضہ کر لیا تھا جبکہ جنوبی قبرص پر یونان نے قبضہ کر لیا تھا۔