Sunday, 11 June, 2006, 08:35 GMT 13:35 PST
نیپال میں پارلیمان نے اتفاق رائے سے بادشاہ گیانندرا کو آئینی دستاویزات کو ویٹو کرنے کے حق سے محروم کردیا ہے۔
اراکین پارلیمان کا کہنا ہے کہ شاہ کے آئین سازی سے متعلق تمام اختیارات ختم کردیئے گئے ہیں۔
پارلیمان کے اس اقدام کے بعد شاہ پارلیمان کے منظور کردہ کسی بھی آئینی بل اور قانون کو مسترد نہیں کرسکیں گے اور اراکین کو آئینی بلوں کو قانونی شکل دینے کے لیے شاہ کی منظوری کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اس بات کا اعلان سرکاری سطح پر اتوار کو کیا گیا۔
شاہ گیانندرا نے اپریل میں شدید عوامی احتجاج کے بعد پارلیمان بحال کردی تھی۔ کئی ہفتوں تک چلنے والے اس احتجاج میں چودہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔
رکن پارلیمان رام بران یادو نے بتایا کہ پارلیمان میں شاہ کی موجودگی کے تصور کو قانون کے ذریعے ختم کر دیا گیا ہے۔
نیپال کی کمیونسٹ پارٹی کے رکن پارلیمان رگھوجی پٹنہ کا کہنا ہے کہ اب شاہ کا کردار محض نمائشی رہ گیا ہے۔
پارلیمان کے سپیکر سبھاش نیوانگ نے بتایا کہ اس نئے قانون کی رو سے ریاست کے تمام تر اختیارات قانون ساز اداروں اور وزراء کی کونسل کو منتقل کر دیئے گئے ہیں۔
گزشتہ ماہ اراکین پارلیمان نے ووٹنگ کے ذریعے شاہ کے فوج، قانونی استثنیٰ اور ٹیکس کی ادائیگی سے مبرا ہونے کے اختیارات میں کمی کی تھی۔