Saturday, 10 June, 2006, 12:37 GMT 17:37 PST
افغانستان میں امریکہ اور اتحادی افواج سے جھڑپوں کے دوران 40 سے زائد مشکوک طالبان ہلاک کیے گئے ہیں۔
اتحاد کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ جھڑپیں زابل اور ارزگان کے صوبوں میں ہوئی ہیں اس کے علاوہ افغان دارالحکومت کے جنوب میں سڑک کے کنارے ایک بم دھماکے میں ایک سیاستداں سمیت تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
نیٹو دستوں کی تعداد میں بتدریج اضافے کی اطلاعات کے ساتھ ہی افغانستان کے جنوبی حصوں میں تشدد کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
اتحاد کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں سے تیس پیر کو زابل میں افغان کنیڈین دستوں سے شدت پسندوں کی ایک جھڑپ میں ہلاک ہوئے ہیں۔
بیان کے مطابق اس مشترکہ کارروائی کے بعد بعض شدت پسند فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
امریکی اتحادی افواج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ زابل میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن جاری رہے گا۔
لیفٹیننٹ پال فٹزپیٹرک کا کہنا ہے کہ ’زابل میں معروف طالبان کی بڑی تعداد ہے اور افغان افواج کے اتحاد سے ان کے خلاف اس وقت تک آپریشن جاری رہے گا جب تک کہ صوبے محفوظ نہیں کر لیا جاتا‘۔
اس کے علاوہ چودہ شدت پسند ارزگان میں ہونے والی ایک علیحدہ جھڑپ میں ہلاک کیے گئے ہیں۔ یہ جھڑپ جمعرات کو ہوئی تھی۔