Saturday, 10 June, 2006, 12:02 GMT 17:02 PST
ایران نے کہا ہے کہ وہ جوہری پروگرام سے متعلق مغربی ممالک کے مجوزہ منصوبے کے جواب میں اپنی تجاویز کے ’پیکج‘ کا اعلان کرے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ منوچہر متقی نے تصدیق کی کہ ایران اس مجوزہ منصوبے کا بغور جائزہ لے رہا ہے جس میں ایران کو یورینیم کی افزودگی روکنے پر کئی مراعات کی پیشکش کی گئی ہے۔
یہ مجوزہ منصوبہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے پانچ مستقل اراکین اور جرمنی نے پیش کیا ہے اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ حاویے سولانا نے تہران کے دورے کے دوران یہ مسودہ ایرانی حکومت کے حوالے کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ مغرب باہمی احترام اور اعتبار پر مبنی تعلقات کا نئے سرے سے آغاز کرنا چاہتا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ نے امید ظاہر کی ہے کہ ایران کی تجویز ایک ایسے ’جوابی پیکج‘ کی بنیاد ڈالے گی جس پر یورپی ممالک غور کرسکیں گے۔
اس سے قبل ایران نے کہا تھا کہ اسے حساس جوہری تحقیق روکنے کے بدلے میں جو مراعات پیش کی جارہی ہیں ان میں کچھ ابہامات کے ساتھ ’مثبت اقدامات‘ بھی ہیں۔
ابھی ان تجاویز کی تفصیل تو جاری نہیں کی گئی تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ ان میں سے ایک یہ ہوسکتی ہے کہ ایران کو ایک جوہری ری ایکٹر فراہم کیا جائے گا اور یہ یقینی بنایا جائے گا کہ ایران کو محدود مقدار میں یورینیم فراہم کیا جائے۔
تہران نے منصوبے کی وصولی کے بعد دکہا تھا کہ اگرچہ وہ اس منصوبے پر غور کرے گا تاہم یورینیم کی افزودگی معطل نہیں کی جائے گی۔
واشنگٹن کا خیال ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ رکھتا ہے تاہم ایران کا اصرار ہےکہ اس کا جوہری پروگرام محض پر امن مقاصد کے لیئے ہے۔