Sunday, 11 June, 2006, 01:22 GMT 06:22 PST
فلسطین اتھارٹی کےصدر نے فلسطینی ریاست کے قیام سے متعلق اٹھارہ نکاتی منصوبے پر چھبیس جولائی کو ریفرنڈم کرانے کا اعلان کیا ہے۔ اس ریفرنڈم میں اسرائیل کو بالواسطہ پر تسلیم کر لیا جائے گا۔
اس منصوبے کے تحت 1967 کی عرب اسرائیل جنگ سے پہلے کی سرحدوں کے اندر فلسطینی ریاست کا قیام ہو اور فلسطینی مہاجرین کو اسرائیل میں اپنے گھروں کو واپسی کا تحفظ حاصل ہو۔
اس ریفرنڈم کے میں دو ریاستوں کی بات کی گئی ہے حماس نےاس ریفرنڈم کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
حماس کے ترجمان مشیر المصری نے کہا کہ یہ ریفرنڈم حماس کی انتظامیہ کو زبردستی ہٹانے کے مترادف ہے۔
حماس کے ترجمان نے کہا کہ ’جس نے بھی‘ ریفرنڈم کا اعلان کیا ہے وہ اس ریفرنڈم کے نتیجے میں پیدا ہونے والےخطرات کا ذمہ دار ہو گا۔
حماس نے لوگوں سے کہا ہے کہ ریفرنڈم کا بائیکاٹ کریں۔ انہوں نے کہا کہ حماس ہر قانونی طریقے سے ریفرنڈم کے انعقاد کو روکنے کی کوشش کرے گی۔
فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے کہا کہ اسرائیلی جیلوں میں قید سینیئر فلسطینی قیادت نے فلسطینی مملکت کا اٹھارہ نکاتی منصوبہ تیار کیا ہے۔
واضح رہے کہ محمود عباس کی جماعت فتح اسرائیل کو تسلیم کرتی ہے اور ایسی فلسطینی ریاست کے لیے رضامند ہے جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو جبکہ حماس اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتی۔
سینیئر فلسطینی رہنماؤں کے تیار کردہ اٹھارہ نکاتی منصوبے پر حماس، فتح، پاپولر فرنٹ اور اسلامی جہاد کے سرکردہ رہنما متفق ہو چکے ہیں۔