http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 10 June, 2006, 01:34 GMT 06:34 PST

غزہ میں بچوں کی ہلاکت پر رد عمل

غزہ میں جمعہ کے روز سمندر کے ساحل پر تفریح کرنے والے تین بچے سمیت سات افراد کی ہلاکت کے بعد حماس کی عسکری بازو نے اسرائیل کے ساتھ فائر بندی ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہ فلسطینی بیت لحیہ کے قریب ایک اسرائیلی بحری جہاز کی فائرنگ سے مارے گئے۔اس واقعے میں پینتیس لوگ زخمی ہوئے ہیں جن میں بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔ واقعے کے فوراً بعد بنائی گئی تصاویر میں ظاہر ہوتا ہے کہ فائرنگ سے پہلے یہ لوگ سمندر کنارے پِکنک منا رہے تھے اور بچے ریت میں کھیل رہے تھے۔
زخمیوں میں بہت سے بچے شامل ہیں

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کے بحری جہاز سے یہ گولے نہیں داغے گئے تھے اور نہ ہی یہ ایک یا فضائی حملہ تھا تاہم وہ اس کی تفتیش کر رہے ہیں۔
فلسطینی صدر محمود عباس نے اس واقعہ کے بعد تین روز کے سوگ کا اعلان کیا ہے۔

فائربندی ختم کرنے کا اعلان حماس کی عسکری بازو عزالدین القسام بریگیڈ نے اپنی ویب سائٹ پر کیا ہے۔ اس بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل کی خونریزی اور جارحیت کے مد نظر ان کے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہے اور اسرائیل کے شہروں میں ’پھر زلزلے شروع ہونگے۔‘
شیلنگ کی اسرائیلی بحری جہاز سے لی گئی تصویر

حماس کی سیاسی تنظیم جو پچھلے انتخابات میں منتخب ہو کر فلسطینی انتظامیہ چلا رہی ہےنے اس اعلان پر ابھی کچھ نہیں کہا ہے۔

انٹرنیٹ پر اعلان کے علاوہ بریگیڈ نے اس بیان کے پیمفلیٹ بھی تقسیم کیے ہیں۔

ادھر اسرائیل نے جمعہ کے روز شمالی غزہ پر بھی ایک فضائی حملہ کیا جس میں چار فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں۔

ایک روز پہلے اسرائیل نے جنوبی غزہ پر فضائی حملہ کر کے فلسطینی انتظامیہ کے سکیورٹی کے اعلی اہلار جمال عبد السمدھانہ سمیت چار افراد کو ہلاک کیا تھا۔