http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 08 June, 2006, 07:48 GMT 12:48 PST

حکومت اور باغیوں میں مذاکرات

ناروے کے شہر اوسلو میں سری لنکن حکام اور تامل باغیوں کے درمیان عارضی جنگ بندی کی نگرانی کرنے والوں کو تحفظ فراہم کیے جانے سے متعلق دو روزہ بات چیت جمعرات سے شروع ہو رہی ہے۔

اس بات چیت کی وجہ گزشتہ ماہ نیوی کے ایک قافلے پر حملے اور اس میں صلح کے نگرانوں کی ہلاکتیں ہیں۔

ناروے کے حکام نے فریقین کی جانب سے اوسلو میں بات چیت کے اس عمل میں حصہ لینے پر خوشی کا اظہار کیا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس بات چیت کو باقاعدہ امن مذاکرات کا متبادل نہیں سمجھا جائے۔

حکومت اور تامل باغیوں کے درمیان اس سال فروری میں امن مذاکرات
ہوئے تھے لیکن اس کے بعد سے تشدد کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ جمعرات کو بارودی سرنگ کے ایک حملے میں فوج کا ایک افسر ہلاک ہو گیا۔

حکومت نے ملک کے شمال مشرق میں ہونے والے اس حملے کی ذمہ داری تامل باغیوں پر ڈالی ہے۔ گزشتہ دو ماہ کے دوران ہونے والی جھڑپوں میں تین سو افراد مارے گئے ہیں۔

اس سے قبل بدھ کو ملک کے مشرق میں باغیوں کے زیر اثر علاقے بٹیکولا گاؤں میں بارودی سرنگ کے ایک حملے میں دس باغی ہلاک جبکہ تیرہ زخمی ہو گئے تھے۔

ناروے کی امداد فراہم کرنے والی وزارت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اوسلو میں دودن تک چلنے والی اس بات چیت میں عارضی صلح کی نگرانی کرنے والے افراد کے تحفظ پر زور رہے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ بات چیت امن مذاکرات نہیں ہیں بلکہ اس کا مقصد اس انتہائی اہم مسئلے کا حل ہے۔
جمعرات کو بارودی سرنگ کے حملے میں فوج کا ایک افسر ہلاک ہوگیا

کولمبو میں بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اگر فریقین کی جانب سے عارضی جنگ بندی کو جاری رکھنے کا اعادہ کیا گیا تو ہی یہ بات چیت کامیاب ہو سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر سیز فائر کا مشاہدہ کرنے والے بین الاقوامی مشاہدہ کار اس عارضی جنگ بندی کی نگرانی نہیں کرسکتے تو پھر یہ کہنا مشکل ہو گا کہ سری لنکا میں بگڑتی ہوئی صورت حال پر کس طرح قابوپایا جا سکتا ہے۔

دوہزار دو میں عارضی جنگ بندی کے اعلان کے بعد بھی سیز فائر کے نگران افراد نے فریقین پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے۔