Thursday, 08 June, 2006, 01:59 GMT 06:59 PST
اقوام متحدہ میں تعینات امریکی سفیر جان بولٹن نے نائب سکریٹری جنرل مارک ملوک براون کے اس بیان پر سخت تنقید کی ہے جس میں انہوں نے اقوام متحدہ کے ساتھ امریکی رویے کا ذکر کیا تھا۔
نائب سکریٹری جنرل مارک ملوک براون نے کہا تھا کہ امریکہ اس تنظیم کو اپنے سفارتی مقاصد کے لیے تو استعمال تو کر لیتا ہے لیکن جب امریکہ میں کچھ مخصوص افراد اقوام متحدہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں تو امریکہ کبھی اقوام متحدہ کے حق میں بات نہیں کرتا۔
اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نے نائب سکریٹری جنرل کے اس بیان کو ایک ’سنگین غلطی‘ قرار دیتے ہوئے سکریٹری جنرل کوفی عنان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے نائب کے اس بیان کی مذمت کریں۔
اقوام محدہ میں اہلکاروں کا کہنا ہے کہ مسٹر ملوک براوں کی تقریر کا مقصد اقوام متحدہ کی اس معاشی بحران کی طرف توجہ دلانا اور اس کا انتباہ کرنا تھا۔
لیکن امریکی سفیر نے ان کے بیان کو ایک’ سنگین غلطی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’امریکہ پر نائب سکریٹری جنرل کی یہ تنقید خود اقوام متحدہ کے لیے انتہائی نقصاندہ ثابت ہو سکتی ہے۔‘
تنظیم کے سکریٹری جنرل کوفی عنان کے ترجمان نے صحافیوں کو بتایا کہ کوفی عنان مسٹر ملوک براون کی تقریر کی توثیق کرتے ہیں۔ نائب سکریٹری جنرل نے بھی صحافیوں سے کہا کہ ان کے سمجھ نہیں آتا کہ ان کے بیان کو امریکہ مخالف کس طرح سمجھا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بحث کا عمل اہم ہوتا ہے وہ چاہتے ہیں کہ امریکیوں کو یہ احساس ہو کہ اقوام متحدہ کا قیام ان کے لیے بھی بہت مفید ہے۔
امریکہ میں کانگریس کے انتخابات نومبر میں ہو رہے ہیں اور اقوام متحدہ کے اہلکاروں کو خدشہ ہے اواشنگٹن اقوام متحدہ کو اس لیے تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے تاکہ اس اہم ریپبلکن ووٹ حاصل ہو جائیں۔
امریکہ کا موقف ہے کہ وہ تنظیم میں اصلاحات چاہتا ہے اور انہیں یہ ہوتا نظر نہیں آرہا۔