Wednesday, 07 June, 2006, 17:03 GMT 22:03 PST
امریکی سینیٹ نے اس آئینی ترمیم کی منظوری روک دی ہے جس کے تحت ہم جنس افراد کے شادی کرنے پر پابندی لگ سکتی ہے۔
صدر جارج بش نے اس پابندی کی حمایت کی تھی اور کہا تھا کہ تہذیبِ انسانی کا بنیادی ترین ادارہ مرد اور عورت کا رشتۂ ازدواج میں منسلک ہونا ہے۔
اس تحریک کو اننچاس ووٹ ملے۔ ہم جنس افراد کی شادی پر پابندی کی ترمیم کو کامیابی کے لیئے ساٹھ ووٹوں کی ضرورت تھی۔
ناقدین کہتے ہیں کہ صدر بش نے ہم جنسوں کی شادی پر پابندی کی ترمیم کی حمایت اس لیئے کی تھی کہ اس برس نومبر میں ہونے والے درمیانی مدت کے انتخابات میں ان ووٹروں کی ہمدردیاں دوبارہ حاصل کر لی جائیں جو حکمراں جماعت سے دو ہو گئے ہیں۔
اس پابندی کے لیئے آئینی ترمیم کی ضرورت کیونکہ وہ عدالتیں جو ان معاملات کے بارے میں
ہم جنسوں کی شادی کا مسئلہ اس وقت سے امریکہ میں زیرِ بحث ہے جب سے ریاست میسیچوسٹ نے دو ہزار چار میں ہم جنسوں کی شادی کے حوالے سے جوڑوں کو اجازت نامے جاری کیئے۔
پچاس میں سے پینتالیس ریاستوں نے یا قوانین منظور کیئے ہیں یا ان میں ترمیم کی ہے تاکہ ایک ہی جنس کی شادیاں ممنوع قرار پائیں۔
لیکن واشنگٹن، نیو یارک اور کیلیفورنیا جیسی دیگر ریاستوں میں ججوں نے ہم جنسوں کی شادی پر لگی پابندی کو مسترد کر دیا ہے۔
حال ہی میں صدر بش نے کہا تھا ’تجربے نے ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ ایک شوہر اور بیوی کے درمیان یہ عہد کہ وہ ایک دوسرے سے پیار کریں گے اور ایک دوسرے کا احساس کریں گے، بچوں اور معاشرے کی بہبود کو فروغ دیتا ہے۔‘
امریکی سینیٹ اور کانگریس دونوں میں کسی بھی آئینی ترمیم کی کامیابی کے لیئے دو تہائی ووٹوں کی اکثریت ضروری ہے۔