Tuesday, 06 June, 2006, 15:53 GMT 20:53 PST
چینی انجینئروں نے ’تین گھاٹیوں والے ڈیم‘ کی عارضی دیوار دھماکے سے گرا دی ہے۔ یہ دھماکہ وہاں موجود سیاحوں کے لیئے ایک دلچسپ نظارہ تھا۔
اس دیوار یا بیریئر کو ’کوفرڈیم‘ کا نام دیا گیا تھا اور اس کی تعمیر کا مقصد ڈیم کی مستقل دیوار کی تعمیر تک دریائے ینگ زی کے پانی کو روکنا تھا۔
ماہرین نے دھماکے کے لیئے 191 ٹن آتشگیر مادہ استعمال کیا جوکہ دس منزلہ چار سو عمارتوں کو منہدم کرنے کے لیئے کافی ہے۔ دھماکے میں 12 سیکنڈ کا وقت لگا اور اس سے کوفرڈیم کا ایک لاکھ نوے ہزار کیوبک میٹر کنکریٹ پانی میں جاگرا۔
ملک کے مرکزی صوبہ ہوبی میں واقع یہ پن بجلی پیدا کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ڈیم ہوگا۔یہ ’تین گھاٹیوں والا ڈیم‘ سنہ دو ہزار نو میں اس وقت مکمل ہوگا جب اس کے تمام جنریٹر کام کرنا شروع کر دیں گے۔
20 مئی کو ڈیم کی ایک سو پچاسی میٹر اونچی اور 2309 میٹر طویل مرکزی دیوار کی تکمیل کے لیئے اس میں آخری مرتبہ کنکریٹ ڈالا گیا تھا۔
![]() | |
| یہ دھماکہ وہاں موجود سیاحوں کے لیئے ایک دلچسپ نظارہ تھا |
دوسری جانب چین کی حکومت کا موقف یہ ہے کہ ڈیم نہ صرف چین کی ترقی کے لیے بجلی کی ضرویات پوری کرے گا بلکہ اس سے سیلاب پر بھی قابو پایا جا سکے گا۔
سنہ دو ہزار نو میں جب ڈیم کے تمام انتیس ٹربائن بجلی پیدا کرنا شروع کر دیں گے تو ڈیم سے بجلی کی کل پیداوار اٹھارہ ہزار میگا واٹ ہو جائے گی۔
دنیا میں سب سے زیادہ تیل استعمال کرنے والے دوسرے بڑے ملک چین کا کہنا ہے کہ اسے اپنی توانائی اور بڑھتی ہوئی صنعتوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیئے توانائی کے متبادل ذرائع پیدا کرنے کے ضرورت ہے۔
دریں اثناء شنگھائی میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق چینی حکام کو امید ہے کہ نئے ڈیم سے دریائے ینگ زی میں سیلاب پر قابو پانے میں بھی مدد ملے گی۔ ماضی میں اس دریا میں سیلاب ہزارہا لوگوں کی جان لے چکا ہے۔
دوسری جانب مخالفین کا کہنا ہے کہ ملک کو اس ڈیم کے لیئے بہت بھاری قیمت ادا کرنا پڑی ہے۔ ان کے مطابق اس منصوبے کی وجہ سے نہ صرف دس لاکھ لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا ہے بلکہ اس سے بارہ ہزار سے زائد دیہات اور قصبے ہمیشہ کے لیے نقشے سے مٹ جائیں گے۔