Sunday, 04 June, 2006, 10:47 GMT 15:47 PST
اطلاعات کے مطابق عراق میں عارضی طو رپر بنائی گئی چیک پوسٹوں پر رکی گاڑیوں پر مسلح افراد کی فائرنگ سے بیس سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں مرنے والوں میں بوڑھے اور بچے بھی شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق فائرنگ کے یہ واقعات بغداد کے شمال مشرقی علاقے دیالا کی سڑک کے قریب ہوئے۔
جنوبی علاقے بصرہ سے اطلاعات کے مطابق سنیوں کی ایک مسجد میں پولیس کی فائرنگ سے کئی افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ پولیس کو یہ کہتے سنا گیا ہے کہ ان پر مسجد سے فائرنگ کی گئی تھی۔
عراق میں تشدد کی حالیہ لہر میں ایسے وقت تیزی آئی ہے جب پارلیمان داخلہ، دفاع اور قومی سکیورٹی کونسل کے وزراء کے انتخاب کے بارے میں بحث میں مصروف ہے۔
دوسری جانب بغداد میں ایک اعلان کےمطابق پارلیمان کا اتوار کو ہونے والا اجلاس ملتوی کر دیا گیا ہے۔
اسمبلی کے نائب سپیکر کا کہنا ہے کہ دفاع اور داخلہ کی وزارتوں کے لیے مناسب امیدوار کے چناؤ کے لیے مزید وقت درکار ہے۔ چھ ہفتے قبل وزیراعظم نوری الملکی کی حکومت تشکیل دیے جانے کے بعد بھی ابھی کئی وزارتوں کے لیے وزراء کا تقرر باقی ہے۔
پارلیمان کے اتوار کے اجلاس میں وزیراعظم نوری الملکی کے نامزد کردہ تین وزراء کے ناموں پر بحث کی جانی تھی۔
وزیراعظم کی پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دفاع اور داخلہ کے لیے وزیر فوج کے سابق افسران ہوں گے اور ان میں دو شعیہ اور ایک سنی مسلک سے ہوں گے۔
بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ملک میں سکیورٹی کے حوالے سے تینوں وزارتیں اہم ہیں۔ حکومت کو امید ہے کہ ان وزراتوں میں وزراء کی تعین کے بعد ملک میں بڑھتے ہوئے تشدد کے خاتمے میں مدد ملے گی۔