Sunday, 04 June, 2006, 18:47 GMT 23:47 PST
افغانستان میں نیٹو کے کمانڈر نے کہا ہے کہ وہ غلط فہمی کے شکار افغانوں کی مدد حاصل کرنے کے لیے نئی حکمت عملی اپنائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ کابل میں گزشتہ ہفتے کے روڈ ایکسیڈنٹ کے بعد جس میں کئی لوگ ہلاک ہوئے تھے فوجیوں کو انسدادی کارروائیوں پر جاتے ہوئے زیادہ خطرے کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔
اس سے قبل طالبان نے اعلان کیا تھا کہ قندھار میں خود کش حملہ انہوں نے کیا تھا۔ اس حملے میں چار شہری ہلاک ہوئے تھے۔
کابل سے بی بی سی کے بلال سروری کا کہنا ہے کہ گزشتہ چار سال کے دوران جنوبی اور مشرقی افغانستان میں بہت سے لوگوں نے امریکی فوجیوں کی جارحانہ حکمتِ عملی کی شکایات کی ہے۔
یہ شکایات زیادہ تر ان فوجیوں سے ہیں جو گھر گھر تلاشیاں لیتے رہے ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ دروازے توڑدیتے تھے اور عورتوں کی تلاشی بھی مرد فوجی لیتے تھے۔
اس کے علاوہ بمباری کی ان کارروائیوں پر بھی بہت غصہ پایا جاتا ہے جن کے دوران بہت سے شہری ہلاک ہوتے رہے ہیں۔
جنرل رچرڈسن نے پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ ’ہم لوگوں پر توجہ دیں گے اور عوام دوست ثابت ہوں گے‘۔