Saturday, 03 June, 2006, 10:28 GMT 15:28 PST
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ اگلے اڑتالیس گھنٹوں کے دوران تہران کا دورہ کریں گے تاکہ ایران پر زور ڈالا جائے کہ وہ اپنی جوہری تحقیق بند کردے۔
ایران کے وزیر خارجہ کے مطابق حاویے سولانا ویانا میں چھ بڑی قوتوں کی تجویز ایران کے سامنے پیش کریں گے۔
منوچہر متقی کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر پیش رفت ممکن تھی تاہم ان کا اصرار تھا کہ ایران یورینیم کی افزودگی نہیں روکے گا۔ اور یہی وہ شرط ہے جو بڑی قوتوں نے مذاکرات کے لیئے رکھی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ایران باقاعدہ ردعمل سے قبل اپنے منصوبے پر غور کرے گا۔
اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور جرمنی نے ایران کے معاملے پر تجاویز پیش کی ہیں تاہم ابھی ان تجاویز کی تفصیل جاری نہیں کی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان میں سے ایک یہ ہوسکتی ہے کہ ایران کو ایک جوہری ری ایکٹر فراہم کیا جائے گا اور یہ یقینی بنایا جائے گا کہ ایران کو محدود مقدار میں یورینیم فراہم کیا جائے۔
منوچہر متقی کا کہنا ہے کہ انہوں نے حاویے سولانا کو اگلے دو روز میں ایران آنے اجازت دے دی ہے۔
سولانا کی ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ محض تجاویز ایران کے سامنے رکھنے وہاں کا دورہ کرنے کو تیار ہیں اور ان کا مقصد مذاکرات نہیں ہیں۔
منوچہر متقی کا کہنا ہے کہ اگر تجاویز خیر سگالی پر مبنی ہے تو معاملے پر کوئی پیش رفت ہو بھی سکتی ہے۔
تاہم انہوں نے مزید کہا کہ ’مذاکرات مشروط نہیں ہونی چاہئیں۔ مذاکرات کے لیئے کوئی شرط قابل قبول نہیں ہے‘۔
چھ ممالک کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے آغاز کے لیئے ایران کو یورینیم کی افزودگی روکنی ہوگی۔
واشنگٹن کا خیال ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ رکھتا ہے تاہم ایران کا اصرار ہےکہ اس کا جوہری پروگرام محض پر امن مقاصد کے لیئے ہے۔
امریکہ نے جمعہ کو ایران کو متنبہ کیا ہے کہ تجاویز پر ردعمل کے لیئے ایران کے پاس وقت بہت کم ہے اور اگر ایران نے ان تجاویز کو رد کردیا تو اس پر اقوام متحدہ کی جانب سے تجویز کردہ پابندیا عائد کی جاسکتی ہیں۔
ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے کہا ہے کہ ایران مغربی دباؤ کے تحت جوہری ٹیکنالوجی حاصل کرنے کے اپنے حق سے دستبردار نہیں ہوگا۔