Saturday, 03 June, 2006, 20:38 GMT 01:38 PST
جنوبی عراق کے شہر بصرہ میں ایک کار بم دھماکے میں کم سے کم اٹھائیس افراد ہلاک اور باسٹھ زخمی ہو گئے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکہ اس ساحلی شہر کے قدیم حصے کے مرکزی بازار میں ہوا۔
عراق کے وزیر اعظم نوری المالکی نے چند روز پہلے بصرہ کا دورہ کیا تھا اور وہاں امن امان کی بحالی کے لیے ہنگامی حالت کا اعلان بھی کیا تھا۔وزیر اعظم نے شہر میں مختلف گروہوں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ گروہ تیل کی سپلائی کے لیے خطرہ ہیں۔
پولیس نے کہا کہ بصرہ میں دھماکے کے وقت بہت سے لوگ بازار میں خریداری کر رہے تھے۔
امریکہ کی قیادت میں عراق پر حملے کے بعد سے تین سال میں بصرہ میں یہ اب تک ہونے والے بڑے حملوں میں سے ایک تھا۔
بصرہ میں دھماکے سے چند گھنٹے پہلے بغداد میں تشدد کے ایک واقعے میں ایک روسی سفارتکار کو ہلاک کر دیا گیا تھا اور چار افراد کو اغوا بھی کیا گیا ہے۔
عراقی حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے بغداد کے علاقے منصور میں کاروں سے سڑک کی ناکہ بندی کر کے روسی سفارتکار کی گاڑی کو روکا اور پھر اس پر فائرنگ کر دی۔
منصور میں کئی سفارتخانے ہیں اور وہاں پہلے بھی سفارتکاروں پر حملہ ہو چکے ہیں۔
عراق میں تشدد
عراقی پولیس نے کہا ہے کہ انہیں بعقوبہ کے قریب سے آٹھ انسانی سر ملے ہیں۔ ان میں سے ایک سر ایک مقامی سنی مبلغ کا بتایا گیا ہے۔ یہ واقعہ بغداد سے ساٹھ کلومیٹر شمال مشرق میں پیش آیا۔
بعقوبہ میں ہی ایک واقعے میں حملہ آوروں نے ایک ناکے پر دستی بم پھینک کر سات پولیس اہلکاروں کو ہلاک اور دس افراد کو زخمی کو کر دیا۔
پولیس کو بغداد کے مختلف علاقوں سے چار لاشیں ملی ہیں جن پر تشدد کے نشانات بھی موجود ہیں۔