Friday, 02 June, 2006, 14:22 GMT 19:22 PST
جمعہ کے روز مشرقی لندن میں مبینہ دہشت گردوں پر ایک گھر پر چھاپے کے دوران ایک تئیس سالہ نوجوان کو گولی مار دی گئی ہے۔
دہشت گردی کے خلاف بنائے گئے نئے قانون (Terrorism Act) کے تحت اس بڑی کارروائی میں ڈھائی سو پولیس اہلکاروں نے حصہ لیا۔
گولی لگنے والے نوجوان کو بعد میں گرفتار کر کے ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے جہاں اس کے حالت خطرے سے باہر ہے۔ اس کے علاوہ ایک دوسرے بیس سالہ نوجوان کو بھی موقعہ سے گرفتار کیا گیا ہے اور اطلاعات کے مطابق مرکزی لندن کے ایک تھانے میں اس سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
پولیس کے مطابق جمعہ کی کارروائی کا گزشتہ جولائی میں ہونے والے لندن دھماکوں سے تعلق نہیں ہے۔
چھاپے کی کارروائی کی تفصیل بتاتے ہوئے لندن کی میٹ پولیس کے دہشتگردی کے خلاف کام کرنے والے شعبہ کے سربراہ نے بتایا کہ یہ کارروائی ’خاص خفیہ معلومات‘ کی بنیاد پر کی گئی ہے۔
پیٹر کلارک نے کہا کہ کارروائی بہت سوچ سمجھ کر کی گئی ہے تاکہ اس بات کا پتہ لگایا جا سکے کہ آیا خفیہ معلومات درست تھیں یا غلط۔
بی بی سی کے برطانیہ کے داخلی امور کے نامہ نگار ڈینیل سینفورڈ کے مطابق مشرق لندن میں کی جانے والی کارروائی دہشت گردی کے خلاف سال رواں کی سب سے اہم کارروائی ہے۔
زخمی ہو جانے والے نوجوان کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ اسے دہشگردی کی مالی معاونت کرنے کے علاوہ دہشتگردی کے عمل کی تیاری اور دوسروں کو دہشتگردی پر اکسانے کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق ان دو نوجوانوں کے گھر کی تلاشی میں کئی دن لگیں گے۔
بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ مشرقی لندن میں جمعہ کی کارروائی اس اطلاع کے بعد کی گئی ہے جس کے مطابق بین الاقوامی دہشتگردی کی سازش میں برطانیہ کو نشانہ بنایا جانا تھا۔
دوسری جانب سیکورٹی اداروں کے مطابق اس کارروائی سے پہلے کئی ماہ تک علاقے کی نگرانی کی گئی تھی۔