Friday, 02 June, 2006, 08:34 GMT 13:34 PST
امریکی خفیہ ایجنسی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ایران آئندہ دس برس میں جوہری ہتھیار تیار کر سکتا ہے۔
امریکی نیشنل انٹیلیجنس کے ڈائریکٹر جان نیگروپونٹے نے بی بی سی ریڈیو کے پروگرام ’ٹوڈے‘ کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ ان کے تجزیے کے مطابق ایران جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسلکٹے پانق مستقل اراکین اور جرمنی ایران کو یورینیم کی افزودگی ترک کرنے کی صورت میں ایک مراعاتی پیکج کی پیشکش پر متفق ہوگئے ہیں۔
اپنے انٹرویو میں نیگروپونٹے نے ایران پر الزام لگایا کہ وہ دنیا میں دہشت گردی کا سب سے بڑا حمایتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’ایران جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے سلسلے میں پرعزم دکھائی دیتا ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ’ہمیں اس بارے میں مکمل معلومات حاصل نہیں لیکن ہمارا اندازہ ہے کہ آئندہ عشرے کے آغاز سے اُس عشرے کے وسط تک ایران جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل کر سکتا ہے اور یہ بہت تشویش ناک بات ہے‘۔
جان نیگروپونٹے نے اپنے انٹرویو میں اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ عراق میں تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے معاملے میں امریکی خفیہ اداروں کی جانب سے غلطیاں ہوئیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ’ان غلطیوں سے سبق سیکھا جاچکا ہے اور انہیں درست کر لیا گیا ہے‘۔