Wednesday, 31 May, 2006, 02:53 GMT 07:53 PST
عراق کے سابق صدر صدام حسین پر چلائے جانے والے ایک مقدمہ میں ایک گواہ نے کہا ہے کہ جن ایک سو اڑتالیس افراد کے قتل میں صدام حسین پر مقدمہ چلایا جا رہا ہے ان میں سے بہت سے زندہ ہیں۔
صدام حسین اور سات دیگر ملزمان پر انیس سو بیاسی میں دجیل کے قصبے میں سابق صدر پر قاتلانہ حملے کے بعد ایک سو اڑتالیس افراد کے قتل کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
اس مقدمہ میں پیش کیے جانے والے ایک گواہ نے کہا کہ ان ایک سو اڑتالیس میں سے کچھ کے ساتھ وہ کھانا کھا چکا ہے۔
اس مقدمہ میں تمام ملزماں نے اپنے جرم سے انکار کیا ہے۔
مقدمہ میں پیش ہونے والے اس گواہ نے جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا کہا کہ وہ انیس سو بیاسی میں ایک نو عمر لڑکا تھا جب دجیل کے شہر میں صدام حسین پر قاتلانہ حملہ کیا گیا۔
پردے کے پیچھے سے گواہی دیتے ہوئے اس نے کہا کہ تیس افراد جن کے نام مقتولین کی فہرست میں شامل ہیں وہ ذاتی طور پر جانتا ہے اور وہ زندہ ہیں۔
اس نے کہا کہ قاتلانہ حملے کے بعد یہ لوگ ملک سے باہر فرار ہو گئے تھے لیکن صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد وہ واپس آ گئے ہیں۔
اس نے کہا کہ وہ ان کے ناموں کی فہرست بنا سکتا ہے۔ ’میں نے ان کے ساتھ کھانہ کھایا ہے، میں ان سے ملا ہوں، میں استغاثہ کے وکیل کو دجیل لے جا کر ان سے ملوا سکتا ہوں۔‘
اس مقدمے کے جج راؤف عبد الرحمان نے اس دعوی کی تحقیقات کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
منگل کو سماعت کے دوران جج نے استغاثہ کو گواہوں کی فہرست کم کرنے کا کا حکم بھی دیا۔