http://bbc.com.im/urdu/

جاوا:مرنے والوں کی تعداد 5800

انڈونیشیا کے جزیرے جاوا میں سنیچر کے روز آنے والے زلزلے میں مرنے والوں کی تعداد پانچ ہزار آٹھ سو ہو چکی ہے۔

انڈونیشیا کی حکومت کے مطابق مرنے کی تعداد اب اٹھاون سو چکی ہے۔

زلزلے کی تصاویر

اقوام متحدہ کے مطابق زلزلے سے متاثرہ لوگوں کے لیے امداد پہنچنی شروع ہو چکی ہے لیکن ذرائع آمدورفت میں مشکلات کی وجہ سے ابھی بھی کئی متاثرہ لوگوں تک امداد نہیں پہنچ سکی ہے۔

عالمی امداد کے باوجود زلزلے کے چوتھے روز بھی کئی لوگوں نے رات کھلے آسمان کے نیچے گزاری۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ امداد کی تعداد کافی معلوم ہوتی ہے تاہم اس کو متاثرین تک پہنچانا اب بھی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔

یوگ کارتا میں اقوام متحدہ کے ایک اہلکار چارلز ہِگنز نے بتایا کہ سڑکوں پر ٹریفک کی بھیڑ کی وجہ سے اس عمل میں تاخیر ہو رہی ہے۔

یوگ کارتا میں 20000 سے زائد افراد زخمی ہوئے اور دو لاکھ سے زائد بےگھر ہوگئے تھے۔ یوگ کارتا کے جنوبی علاقوں میں جہاں گھنی آبادی ہے، عمارتیں بڑے پیمانے پر زمیں بوس ہوگئی تھیں۔

اقوام متحدہ نے یوگ کارتا ہوائی اڈے پر ایک رابطہ اور کوارڈنیشن سینٹر قائم کیا ہے اور ورلڈ فوڈ پروگرام نے متاثرہ علاقوں تک خوراک پہنچانی شروع کر دی ہے۔

خوراک سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام کا کہنا ہے کہ اس کے امدادی کارکنوں نے یوگ کارتا کے ضلعوں بانتول اور کلاٹین میں کھانے پینے کی اشیاء ٹرکوں کے ذریعے پہنچانی شروع کردی ہیں۔

بائیس ممالک نے زلزلے کے متاثرین کے لیئے امداد کا اعلان کیا ہے۔ ان ممالک میں جاپان، سعودی عرب اور برطانیہ نے کئئ ملین ڈالر امداد کا اعلان کیا تھا۔

پیر کو جنیوا میں اقوم متحدہ اور ریڈ کراس کے اہلکاروں کے ہنگامی اجلاس کے بعد اہلکاروں نے بتایا کہ امدادی کارروائیوں میں فیلڈ ہسپتال کا قیاماور ٹینٹ، ادویات اور صاف پانی کی فراہمی ان کی اول ترجیحات میں شامل ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ریلیف کوارڈینیٹر ژاں ایگلینڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ’ یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ اس زلزلے سے ہزاروں افراد متاثر ہوئے ہیں اور علاقے میں طبی امداد کی فراہمی کی اشد ضرورت ہے۔

زلزلہ: امداد ایجنسیوں کا اجلاس

27 مئی: یوگ یاکرتا کے لوگوں پر کیا گزری

جاوا میں زلزلے کے متاثرین نے تیسری شب بھی کھلے آسمان تلے گزاری ہے۔ امدادی کارکن ابھی بھی زلزلے سے بچنے والوں کی تلاش میں عمارتوں کا ملبہ چھان رہے ہیں۔

زلزلے کے متاثرین کے لیے اتوار کے روز ہونے والی بارش کافی پریشان کن ثابت ہوئی اور بہت لوگوں کو اپنے گھروں کے ملبوں میں پناہ لینی پڑی۔

یوگ کارتا میں بی بی سی کی نامہ نگار ریچل ہاروی کا کہنا ہے کہ وہاں حالات کافی برے ہیں اور زلزلے کے متاثرین ابھی بھی زخمی حالت میں ہسپتالوں میں پہنچ رہے ہیں۔ تاہم امدادی ایجنسیاں فیلڈ ہسپتال قائم کررہی ہیں۔

اسی بارے میں:

کھلے آسمان تلے دوسری شب گزارنے پر مجبور