Wednesday, 31 May, 2006, 13:21 GMT 18:21 PST
وہ فریاد کر رہا تھا: ’میں دوست ہوں، میں اچھا ہوں‘ لیکن انہوں نے اسے بیٹی اور اہلیہ سمیت ہلاک کر دیا‘۔
یونس خاندان کی بچ جانے والی ایک بچی صفا یونس کا کہنا ہے کہ: ’جیسے ہی میرے والد نے دروازہ کھولا، انہوں گولیاں چلانی شروع کر دیں۔ اس کے بعد انہوں نے باتھ روم میں ایک دستی بم پھینکا ۔ ۔ ۔ امریکی گولیاں چلاتے جا رہے تھے‘۔
فہمی نے مزید بتایا کہ’جب فوجی اینٹوں سے بنے ہوئے احاطے والے گھر سے باہر نکل رہے تھے تو ان کے پیچھے گھر سے شعلے بلند ہو رہے تھے‘۔
فہمی کا کہنا ہے ’ایک فوجی میرے ساتھ والے گھر کی چھت پر تھا۔ اس نے وہیں سے چلا کر فوجیوں کو پچاس گز کے فاصلے پر واقع ایک اور قریبی گھر کی طرف اشارہ کیا۔
یہ گھر 76 سالہ عبدالحمید حسن علی کا تھا۔ جو ذیابطیس کے باعث کئی سال سے معذور اور وہیل چیئر پر تھے۔ علی کے ساتھ اس گھر میں، ان کی 66 سالہ اہلیہ خمیسہ علی، تین ادھیڑ عمر کے مرد، ایک بہو اور چار بچے جن میں چار سالہ عبداللہ، آٹھ سالہ امان، پانچ سالہ عبدالرحمٰن اور دو ماہ کی بچی آسیہ رہتے تھے۔
فوجیوں نے ان سب پر بہت قریب سے گولیں چلائیں‘۔
![]() | |
| امریکی فوج نے ابتدا میں کہا تھا کہ یہ ہلاکتیں شدت پسندوں سے جھڑپ میں ہوئیں |
ہمسائیوں کا کہنا ہے کہ’امان اور عبدالرحمٰن کو بھی گولیاں لگیں لیکن ان کی زندگیاں بچ گئیں تاہم علی اور ان کے خاندان کے باقی لوگ ہلاک ہو گئے‘۔
علی خفیف کے خاندان کے لوگوں کی ہلاکتوں کے بارے میں ہسپتال سے جاری کیے جانے والے سرٹیفکیٹ میں کہا گیا ہے کہ جب علی خفیف کے گھر پر فائرنگ کی گئی اس وقت گھر میں 43 سالہ خفیف، سالہ 41 عدن یٰسین، ان کا آٹھ سالہ بیٹا اور پانچ سالہ اور ایک سالہ بیٹی موجود تھیں۔
ان میں سے تیرہ سالہ صفا اپنی والدہ کی ہلاکت کی وجہ سے بچ گئیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی والدہ کے جسم سے بہنے والے خون میں نہا گئی تھیں اور جس صدمے کی وجہ سے بے ہوش ہو کر گریں تو تو انہیں بھی ہلاک سمجھ لیا گیا۔
عینی شاہدوں کے مطابق اس کے فوجیوں نے تیسرے گھر کو نشانہ بنایا۔ اس گھر میں چار بھائی رہتے تھے اور چاروں ہی مارے گئے۔
فہمی کا کہنا ہے کہ اس خون خرابے کا نشانہ بننے والے چار نوجوان خالد الزوائی، واجد الزوائی، محمد بطال محمد اور اکرم حامد فلیح بد قسمتی سے زد میں آگئے۔ وہ یونیوسرٹی کے طالبِ علم تھے اور ایک دوست کے ساتھ چھٹی منانے کے لیے آئے تھے۔
اس وقعے کے بعد فوجیوں نے ہلاک ہونے والے پندرہ افراد کے پسماندگان کو فی کس پندرہ سے پچیس سو ڈالر بطور معاوضے دینے کی کوشش کی۔
جب کہ دیگر نو افراد کے بارے میں اصرار کیا کہ وہ شورشی تھے۔
زیادہ سے زیادہ سزائیں کیا ہونگی؟ |
عراقی عدالتوں اور اقوام متحدہ میں مقدمہ دائر کرنے کی تیاری کرنے والے ایک وکیل ولید محمد کا کہنا ہے کہ ’وہ اس انتظار میں ہیں کہ سزائیں کب دی جاتی ہیں۔ اگرچہ وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ملزمان کو جو سزائیں دی جائیں گی وہ زیادہ سے زیادہ اتنی ہوں گی جو امریکہ میں کتوں کو مارے جانے پر دی جا سکتی ہیں۔ کیونکہ امریکیوں کی آنکھوں میں عراقیوں کی حیثیت کتوں جیسی ہو گئی ہے‘۔