Monday, 29 May, 2006, 17:38 GMT 22:38 PST
کیوبا میں امریکہ کے حراستی مرکز گوانتانامو بے میں پچھتر قیدی بھوک ہڑتال پر چلے گئے ہیں۔
گوانتانامو میں بھوک ہڑتال کا آغاز اگست میں چند قیدیوں نے کیا تھا۔ ان افراد نے جیل میں دیا جانے والا کھانا لینے سے انکار کردیا تھا جس کے بعد سے اب تک انہیں زبردستی خوراک دی جارہی ہے۔
ایک امریکی ترجمان کا کہنا ہے کہ بھوک ہڑتال کرنے والے قیدیوں کی تعداد میں اضافے کا مقصد محض ذرائع ابلاغ کی توجہ حاصل کرنا اور امریکہ پر یہ دباؤ ڈالنا ہے کہ انہیں آزاد کردیا جائے۔
کیوبا کے فوجی اڈے پر فوجی ٹریبیونل جون سے کیسوں کی سماعت شروع کرے گا۔ توقع ہے کہ امریکی سپریم کورٹ بھی اسی دوران ایک متعلقہ مقدمہ کا فیصلہ سنائے گی۔
گوانتانامو میں 460 افراد امریکہ کے زیر حراست ہیں۔ ان میں سے بیشتر کو الزام عائد کیئے بغیر ہی ساڑھے چار سال سے قید میں رکھا جارہا ہے۔
حقوق انسانی کے گوہوں کا کہنا ہے کہ امریکہ کی ’دہشتگردی کے خلاف جنگ‘ کے نام پر کیئے جانے والے آپریشن میں پکڑے گئے بیشتر قیدی بے گناہ ہیں۔
کچھ ہی عرصہ قبل اقوام متحدہ کی ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ امریکہ کوگوانتانامو بے کے حراستی مرکز کے علاوہ بیرون ملک میں واقع تمام ایسے خفیہ حراستی مراکز بھی بند کرنے چاہئیں جو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیئے قائم کیے گئے ہیں۔
اقوام متحدہ کی کمیٹی اگینسٹ ٹارچر یا اذیت رسانی کے خلاف اقوام متحدہ کی کمیٹی نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کام کرنے والے امریکی ماہرین کے ساتھ ایک سماعت بھی کی تھی۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ امریکہ کو فوری طور پر ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جن سے امریکی افواج کی زیر حراست لوگوں پر تشدد یا اذیت رسانی کو روکاجا سکے۔