Monday, 29 May, 2006, 09:27 GMT 14:27 PST
کابل میں امریکی فوجی قافلے کے ساتھ ٹریفک تصادم میں کم از کم سات افراد کے مارے جانے کے بعد شہر میں شروع ہونے والے ہنگاموں میں متعدد افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ یہ افراد اس وقت ہلاک ہوئے جب امریکہ مخالف نعرے لگاتے ہوئے ایک مشتعل ہجوم نے پولیس کا گھیرا توڑ کر حکومتی عمارات اور سفارتخانوں کے قریب جانے کی کوشش کی۔
کابل سے بی بی سی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ امریکی سفارت خانے کے قرب و جوار کے علاوہ شہر کے متعدد علاقوں سےگولیوں کی آواز سنائی دے رہی ہے اور اطلاعات کے مطابق امریکی سفارت خانے کے عملے کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
افغان پولیس کا کہنا ہے کہ یہ ہنگامے ایک ٹریفک جام کے دوران امریکی قافلے کی گاڑیوں کے دیگرگاڑیوں سے تصادم کے بعد شروع ہوئے۔ اس حادثے کے بعد جمع ہونے والے ہجوم نے امریکہ اور کرزئی مخالف نعرے لگاتے ہوئے فوجی گاڑیوں پر پتھراؤ شروع کر دیا اور کاروں کو آگ لگا دی۔ مشتعل
ہجوم نے دو پولیس گاڑیوں اور ایک حفاظتی چوکی کو بھی نذرِ آتش کر دیا۔
افغان وزارتِ داخلہ کے ترجمان یوسف ستنیزی نے ہنگاموں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ’ ہم اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ کابل میں اتحادی افواج کے ایک ٹریفک حادثے کے بعد پر تشدد مظاہرے ہوئے ہیں‘۔ وزارتِ داخلہ کے ترجمان نے عوام سے پرسکون رہنے کی درخواست کی ہے اور کہا ہے کہ وہ اس حادثے کی حقیقت جاننے کے لیئے ایک کمیٹی تشکیل دے رہی ہے۔
اتحادی فوج نے بھی کابل میں حادثے کی تصدیق کی ہے تاہم فوج کی جانب سے اس معاملے پر مزید تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔ فوج کی ترجمان کا کہنا تھا کہ’ ہم اس معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں اور فی الحال ہمارے پاس مرنے والوں کی تعداد کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں‘۔
ادھر افغان حکام کا کہنا ہے کہ امریکی طیاروں نے ہلمند صوبے میں مشتبہ طالبان کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔ ہلمند کے نائب گورنر امیر محمد اخوندزادہ کے مطابق اس بمباری سے ایک اندازے کے مطابق پچاس کے قریب طالبان ہلاک ہوئے ہیں تاہم اصل تعداد کا اندازہ پولیس کے جائے وقوع پر پہنچنے کے بعد ہی لگایا جا سکے گا۔