Saturday, 27 May, 2006, 04:23 GMT 09:23 PST
انڈونیشیا کے جزیرے مرکزی جاوا کے جنوبی ساحل پر سنیچر کی صبح آنے والے طاقتور زلزلے میں حکام کے مطابق اب تک 3000 سے زائد افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے ہیں۔ ہلاک شدگان اور زخمیوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
زلزلے میں کم از کم 2900 افراد شدید زخمی بتائے جارہے ہیں جبکہ بڑی تعداد میں لوگ اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔
انڈونیشیا کے ریڈ کراس ادارے کا اندازہ ہے کہ تقریباً دو لاکھ افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے کہا ہے کہ ادارے کی امدادی ٹیم ریلیف کے سامان کے ساتھ مدد فراہم کرنے کے لیئے تیار ہے۔
جن ممالک نے امداد کا وعدہ کیا ہے ان میں ملائیشیا، جاپان، روس اور یورپی یونین شامل ہیں۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلہ پیما پر چھ اعشاریہ دو کی شدت کے اس زلزلے کا مرکز جاوا میں یوگ یاکرتا کے قریب تھا جہاں بڑے پیمانے پر عمارتیں زمیں بوس ہوگئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یوگ یاکرتا کے قریب میں واقع دیگر دو شہر بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
سنیچر کی صبح کا یہ زلزلہ ایک ایسے علاقے میں آیا جہاں کافی گھنی آبادی ہے اور ٹیلی ویژن کی تصاویر سے لگتا ہے کہ زخمیوں کو کھلے عام سڑکوں پر اور ہسپتالوں کے باہر طبی امداد پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ شہر میں بجلی اور مواصلات کا نظام معطل ہوچکا ہے۔
یوگ یاکرتا میں واقع ہسپتالوں میں ہلاک شدہ اور زخمی افراد کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ان ہسپتالوں میں موجود طبی عملہ اتنی بڑی تعداد میں زخمیوں کی دیکھ بھال کے لیئے ناکافی ہے۔
انڈونیشیا کے صدر صوصیلو بمبانگ یودھویونو نے امدادی اداروں سے کہا ہے کہ وہ امدادی کام چوبیس گھنٹے جاری رکھیں۔ سنیچر کی شام صدر نے کابینہ کے وزراء کی ایک ٹیم کے ہمراہ متاثرہ علاقے کا دورہ بھی کیا۔
یوگ یاکرتا کا ایئر پورٹ بھی بند ہے۔ اطلاعات ہیں کہ رن وے پر بھی دراڑیں پڑ گئی ہیں۔
یہ زلزلہ مقامی وقت کے مطابق صبح پانچ بجکر چون منٹ پر آیا۔ یوگ یاکرتا انڈونیشیا کا قدیمی دارالحکومت ہے جو موجودہ دارالحکومت جکارتہ سے جنوب مشرق میں 440 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے اور یہ انڈونیشیا کے آتش فشاں میراپی کی چوٹی کے نزدیک واقع ہے۔ اگرچہ کہا جارہا ہے کہ اس زلزلے کا میراپی کے آـتش فشاں سے تعلق تو نہیں ہے تاہم اس چوٹی پر بھی آتش فشاں کی سرگرمی بڑھ گئی ہے۔
![]() | |
| شہر میں زخمیوں کو سڑکوں اور گلیوں میں طبی امداد دی جارہی ہے |
انڈونیشیا ایسے علاقے میں واقع ہے جسے پیسیفک کا ’آگ کا دائرہ‘ کہا جاتا ہے۔ اس علاقے میں زلزلے اور آتش فشان پھٹنے کا امکان دیگر علاقوں کی نسبت سب سے زیادہ ہوتا ہے۔
دسمبر 2004 میں انڈونیشیا کے ساحل پر سمندر میں آنے والے زلزلے سے پیدا ہونے والی سونامی کی لہروں سے لاکھوں افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ یہ زلزلہ سونامی کا باعث نہیں بنا ہے۔