Friday, 26 May, 2006, 07:00 GMT 12:00 PST
افغان صدر حامد کرزئی نے ملک کے مغربی صوبے قندھار میں اتحادی فوج کی بمباری کا شکار ہونے والوں سے ملاقات کی۔
امریکی فوج کے مطابق اس نے گزشتہ روز صوبے کے ایک گاؤں پر حملے میں کم و بیش 80 طالبان کو ہلاک کر دیا تھا لیکن مقامی سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ حملے میں سولہ شہری بھی ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ کئی عورتیں اور بچے زخمی بھی ہوئے۔
امریکی فوج نے اس تنقید کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ حملے کے وقت گاؤں میں عام شہری بھی موجود تھے۔
اس کے علاوہ امریکی فوج نے اس حادثہ کا ذمہ دار طالبان کو ٹھہرایا اور کہا کہ ہلاک کیے جانے والے طالبان عام شہریوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔
قندھار میں قبائلی عمائدین سے خطاب کرتے ہوئے حامد کرزئی نے کہا کہ وہ اتحادی فوج کی بمباری میں زخمی ہونے والے بچوں اور عورتوں سے ملنے آئے ہیں۔ افغانی صدر نے کہا ’ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں میں آپ لوگوں کو تحفظ فراہم کروں گا۔‘
اس سے پہلے حامد کرزئی نے بدھ کے روز اتحادی فوجوں کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل کارل ایکنبری کو طلب کیا اور ان سے منگل کو ہونے والی ہلاکتوں کے بارے میں پوچھا۔
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں عام شہریوں کی حفاظت کی ہر ممکن کوشش کی جانا ضروری ہے۔ ’ جب افغان عوام دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بین الاقوامی برادری کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں تو یہ ضروری ہے کہ کسی بھی آپریشن میں عام شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔‘
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے سے جنوبی افغانستان میں مشتبہ طالبان کے خلاف کارروائیوں میں شدت آ گئی ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق گزشتہ بدھ سے اب تک ملک کے اس حصے میں کم از کم دو سو طالبان کو مارا جا چکا ہے۔