Thursday, 25 May, 2006, 02:02 GMT 07:02 PST
اس طرح کی اطلاعات کے مدنظر کہ ایرانی حکومت امریکہ کے ساتھ رابطہ کرنے کی کوشش میں ہے، امریکہ نے ایران کے ایٹمی پروگرام پر براہ راست مذاکرات سے انکار کردیا ہے۔
بدھ کے روز امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے ایک خبر شائع کی تھی کہ ایرانی حکام نے کسی ثالثی کے ذریعے یہ واضح کیا ہے کہ وہ ایٹمی تنازعے پر امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات چاہتے ہیں۔
جب نامہ نگاروں نے وائٹ ہاؤس کے ترجمان ٹونی اسنو کی توجہ اس خبر کی جانب دلائی تو انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ اس وقت تک براہ راست مذاکرات نہیں ہوسکتے جب تک وہ یورینیم کی افزودگی ہمیشہ کے لیے بند نہیں کردیتا۔
ایران کا کہنا ہے کہ وہ صرف بجلی کے لیے ایٹمی ٹیکنالوجی میں دلچسپی رکھتا ہے لیکن امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کو خدشہ ہے کہ تہران ایٹم بم بنانا چاہتا ہے۔
بدھ کے روز لندن میں ایران کے ایٹمی تنازعے پر ہونے والی بات چیت میں ایک امریکی اہلکار نے کہا کہ لندن مذاکرات کے دوران کچھ پیش رفت ہوئی ہے تاہم مندوبین کسی حتمی معاہدے پر متفق نہیں ہوئے ہیں۔
امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان شان میککورمیک نے کہا کہ جرمنی اور اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے مستقل اراکین نے ابھی ایک فائنل سمجھوتے پر اتفاق نہیں کیا ہے جس میں ایران کو ایک پیکج پیش کرنے کی بات ہوگی۔
چین اور روس کا کہنا ہے کہ ایران کو سمجھانے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنا ایٹمی پروگرام ترک کردے، نہ کہ دھمکی دینے کی۔ مبصرین کا خیال ہے کہ چین اور روس ایسے اقدامات کی حمایت نہیں کریں گے جو ایران پر پابندیاں عائد کرنے کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتے ہوں۔
یورپی ممالک چاہتے ہیں کہ روس اور ایران کے ایٹمی پروگرام سے پیدا ہونے والے سکیورٹی کے خدشات کے بارے میں سنجیدگی سے سوچیں۔