Thursday, 25 May, 2006, 16:36 GMT 21:36 PST
فلسطینی رہنما محمود عباس نے کہا ہے کہ اگر فتح اور حماس کسی سیاسی پروگرام پر متفق نہیں ہوتے تو وہ فلسطینی ریاست کی سرحدوں کے تعین کے لیے ایک ریفرنڈم کرائیں گے۔
محمود عباس ایک کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے جس کے انعقاد کے مقاصد تشدد اور فتح اور حماس کے درمیان سیاسی اختلافات کو ختم کرنا ہے۔
محمود عباس نے کہا کہ اب دونوں تنظیموں کے پاس اتفاق رائے کے لیے دس دن کا وقت ہے۔
واضح رہے کہ محمود عباس کی جماعت فتح اسرائیل کو تسلیم کرتی ہے اور ایسی فلسطینی ریاست کے لیے رضامند ہے جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو جبکہ حماس اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتی۔
اپنی تقریر میں محمود عباس نے اس بات کو فوری طور پر رد کیا کہ ریفرنڈم کی بات کر کے وہ حماس کو کسی طرح سے چیلنج کر رہے ہیں۔
انہوں نہ کہا دونوں فریقوں میں اتفاق رائے نہ ہونے کی صورت میں چالیس دن کے اندر اسرائیلی جیلوں میں قید سینیئر فلسطینی رہنماؤں کا ترتیب دیا ہوا منصوبہ ریفرنڈم کے لیے پیش کر دیا جائے گا۔
محمود عباس نے کہا ’صورتحال خطرناک تر ہوتی جا رہی ہے، پوری قوم خطرے میں ہے۔ ہم تمام عمر انتظار نہیں کر سکتے۔‘
سینیئر فلسطینی رہنماؤں کے تیار کردہ اٹھارہ نکاتی منصوبے پر حماس، فتح، پاپولر فرنٹ اور اسلامی جہاد کے سرکردہ رہنما متفق ہو چکے ہیں۔
اس منصوبے کے تحت تمام فریقین اس بات پر متفق ہیں کہ 1967 کی عرب اسرائیل جنگ سے پہلے کی سرحدوں کے اندر فلسطینی ریاست کا قیام ہو اور فلسطینی مہاجرین کو اسرائیل میں اپنے گھروں کو واپسی کا تحفظ حاصل ہو۔
محمود عباس کی تقریر سے قبل وزیر اعظم اسماعیل ہنیہ نے یہ کہتے ہوئے کہ’ خانہ جنگی کا لفظ ہماری لغت میں نہیں ہے‘ حماس پر زور دیا کہ وہ تشدد کی زبان استعمال کرنا ترک کرے۔
محمود عباس نے اپنی تقریر میں متنبہ کیا کہ اگر حماس اسرائیل کے ساتھ جنگ جاری رکھتا ہے تو ایک مکمل فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات بری طرح متاثر ہوں گے۔