Wednesday, 24 May, 2006, 00:49 GMT 05:49 PST
القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کے ایک مبینہ آڈیو ٹیپ میں کہا گیا ہے کہ حال ہی میں امریکہ میں سزا پانے والے ذکریا موساوی گیارہ ستمبر کے خود کش حملوں میں ملوث نہیں تھے۔
آڈیو کے ذریعے یہ پیغام دینے والی آواز ایک اسلامی ویب سائٹ پر نشر کی گئی ہے اور اس کا دورانیہ پانچ منٹ ہے۔ دعوے کے مطابق آواز اسامہ بن لادن کی ہے۔
ٹیپ کے مطابق: ’میں نے خود انیس حملہ آوروں کو (گیارہ ستمبر کے حملوں کے لیئے) مختلف کام سونپے تھے اور ان میں ذکریا بھائی شامل نہیں تھے۔‘
اس ماہ کے اوائل میں ایک امریکی عدالت نے موساوی کو حملوں میں ملوث ہونے پر عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
آواز کے مطابق ’ذکریا موساوی انیس حملہ آوروں میں اس لیئے شامل نہیں تھے کہ وہ ابھی جہاز چلانا سیکھ رہے تھے۔ جیسا کہ حکومت کہتی کہ ذکریا بیسویں حملہ آور تھے، یہ غلط ہے۔‘
ٹیپ کے مطابق ذکریا موساوی نے چار سال جیل میں رہنے کی وجہ سے دباؤ کا شکار ہو کر اعترافِ جرم کیا ہے۔
مراکو سے تعلق رکھنے والے موساوی فرانسیسی شہری ہیں اور انہوں نے گزشتہ برس اپریل میں کہا تھا کہ وہ گیارہ ستمبر کو نیویارک میں ہونے والے حملوں میں ملوث تھے۔
آڈیو ٹیپ کے مطابق گوانتا نامو کے ایک قیدی کا تعلق بہر حال گیارہ ستمبر کے حملوں سے تھا۔
امریکہ میں انسدادِ دہشت گردی کے ایک ماہر کا کہنا ہے کہ حکومت ٹیپ کے پیغام سے آگاہ ہے اور اس آواز پر شک کرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔