Monday, 22 May, 2006, 09:51 GMT 14:51 PST
اسرائیلی وزارت دفاع نے حکم دیا ہے کہ غزہ میں فلسطینی خاندان کی ہلاکت کی تحقیقات شروع کی جائیں۔
ایک فلسطینی مبینہ عسکریت پسند پر فضائی حملے کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کی تین نسلوں سے تعلق رکھنے والے افراد ہلاک ہوگئے۔
یہ افراد شام کے وقت ایک گاڑی میں سفر کررہے تھے جب اسرائیلی فوج نے میزائیل سے یہ حملہ کیا۔ اس حملے میں اسلامک جہاد سے تعلق رکھنے والے محمد الدادوع ہلاک ہوگئے۔
حملے میں بچ جانے والے ایک شخص نے بتایا کہ اسرائیلی حملے نے ان کی بیوی، بیٹے اور ماں کی جان لے لی جو کہ ان کی کل کائنات تھے جبکہ ایک تین سالہ بیٹی شدید زخمی حالت میں ہسپتال میں داخل ہے۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس بچی کی ریڑھ کی ہڈی متاثر ہوئی ہے جس کی وجہ سے وہ اب کبھی بھی اپنے ہاتھ یا ٹانگیں نہیں ہلا سکے گی جبکہ تمام زندگی اس کی سانسیں مشین کی مدد سے چل سکیں گی۔
نماز جنازہ پر تعزیت کے لیئے موجود مشتعل فلسطینیوں کا مطالبہ ہے کہ جواباً اسرائیل پر حملہ کیا جائے۔ اسلامی جہاد کے ایک رکن کا کہنا ہے: ’ہم بدلے میں یہودی قوم کے پیروں تلے زمین ہلا کر رکھ دیں گے۔‘
اسرائیل نے تسلیم کیا ہے کہ ہلاک ہونے والے تین افراد معصوم شہری تھے۔ تاہم اسرائیلی حکام کے مطابق محمد الدادوع کی ہلاکت ’منصفانہ‘ تھی۔ اسرائیلی فضائیہ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ’ہم نے صحیح لمحہ تلاش کرنے کے لیئے بہت انتظار کیا ہے۔‘
اسلامی جہاد کے مطابق محمد الدادوع ان کے ایک سینیئر انجینیئر تھے جو اسلحے کی تیاری کے شعبے سے تعلق رکھتے تھے۔ بظاہر یہ میزائیل ایک ایسے طیارے سے داغا گیا تھا جو خودکار تھا اور جس میں کوئی شخص موجود نہیں تھا۔