Monday, 22 May, 2006, 10:42 GMT 15:42 PST
قندھار پر امریکی بمباری میں کے بارے میں عینی شاہدین کی رپورٹتں کچھ یوں ہے:
عینی شاہدین اور مقامی ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ہسپتال پہنچنے والے زخمیوں میں کئی بچے بھی شامل ہیں۔ قندھار سٹی ہسپتال کے ایک ڈاکٹر نے بتایا ہے کہ زخمیوں میں کم سے کم چار بچے شامل ہیں۔
ایک اور عینی شاہد نے بتایا کہ حالیہ جھڑپوں کے بعد طالبان نے ایک مقامی مدرسے میں پناہ لے لی تھی۔ حاجی اخلاف نے بتایا کہ’مدرسے پر بمباری ہوئی تو یہ لوگ بھاگ کر قریبی گھروں میں چلے گئے، اور پھر ان گھروں پر بمباری شروع ہو گئی۔‘
ہسپتال گاؤں سے تقریباً پینتیس کلومیٹرکے فاصلے پر ہے اور بہت سے زخمیوں کو ہسپتال نہیں لایا جا سکا ہے۔
قندھار سٹی ہسپتال کے ایک ڈاکٹر کے مطابق حکام امیولنسوں کو متاثرہ علاقے میں داخل نہی ہونے دے رہے تھے۔
امریکی قیادت میں کثیر ملکی افواج نے اس علاقے کی ناکہ بندی کر دی ہے اور وہاں موجود افراد کی تفتیش جاری ہے۔ امریکی فوج کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ آپریشن کا مقصد یہاں سر گرم طالبان مزاحمتکاروں کو پکڑنا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یہ افراد طالبان کے سرگرم کارکن تھے اور یہ افغان اور کثیر ملکی افواج کے علاوہ شہریوں کے خلاف بھی حملے کرتے رہے ہیں۔