Monday, 22 May, 2006, 10:35 GMT 15:35 PST
عبدالحئی کاکٹر
قندھار، افغانستان
افغانستان کے جنوبی صوبے قندھار کے گورنر اسد اللہ خالد نے کہا ہے کہ طالبان کے خلاف گزشتہ شب شروع کی جانے والی کارروائی جاری رہے گی۔
اسد اللہ خالد نے بی بی سی کو بتایا کہ اس کارروائی میں سولہ شہری اور ساٹھ طالبان ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ پچیس شہری زخمی ہوئے ہیں جس میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔
علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ اتحادی فوج کے فضائی حملے میں ایک سو تیس سے زیادہ لوگ ہلاک ہو گئے ہیں جن میں بڑی تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اتحادی فوج کی گزشتہ نصف شب کو شروع کی جانے والی کارروائی عارضی طور پر روک دی گئی ہے اور اسے بہت جلد دوبارہ شروع کیا جائے گا۔
پنجوئی کے گاؤں پر فضائی حملے میں ہلاک ہونے والے شہریوں کی ہلاکت پر انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ طالبان نے ان لوگوں کے گھروں میں مورچے سنبھال لیئے تھے۔
قندھار کے مرکزی ہسپتال میں پچیس افراد کو لایا گیا جس میں عورتیں اور ایک بچھ بھی شامل تھے۔
پنچ پائی کے لوگوں کے مطابق اس حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک سو تیس کے قریب ہے۔ انہوں نے کہا کہ رات کو جب زیادہ تر لوگ اپنے گھروں میں تھے اتحادی افواج کے طیاروں اور ہیلی کاپٹروں نے حملہ کر دیا۔
![]() | |
| قندھار کے گورنر کے مطابق آپریشن عارضی طور پر روکا گیا ہے |
ان علاقوں کے رہنے والوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف تو وہ طالبان کی کارروائیوں سے پریشان ہیں دوسری طرف افغان اور اتحادی افواج کی غیر اعلانیہ کارروائیوں سے ان کے لیئے مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔
طالبان کی طرف سے ابھی تک اس کارروائی کے بارے میں کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔